چترال حملہ: ’ایساف، افغان فوج اقدامات کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption چترال میں ایسا حملہ اپنی نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے ہفتے کے روز پاکستان میں افغانستان کے نائب سفیر کو طلب کر کے کہا ہے کہ افغانستان میں بین الاقوامی فوج ایساف اور افغان نیشنل آرمی شدت پسندوں کے حملے روکنے کے لیے اقدامات کریں۔

بیان کے مطابق پاکستان کے دفترِ خارجہ نے افغانستان کے علاقے کنڑ اور نورستان سے چترال کے علاقے میں سکیورٹی فورسز پر حملے کی شدید مذمت کی۔

واضح رہے کہ پاکستان کےصوبہ خیبر پختونخواہ کے شمالی ضلع چترال میں حکام کا کہنا ہے کہ مُسلح شدت پسندوں نےسکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر حملہ کر کے پچییس اہلکاروں کو ہلاک کردیا ہے۔

’باجوڑ، سوات کے شدت پسند کنڑ اور نورستان میں ہیں‘: سنیے

پاکستانی فوج کی چترال پر حملے کی شدید مذمت

وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گیے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کے نائب سفیر پر سرحدی علاقوں میں امن و امان کی اہمیت کو واضح کیا گیا۔ اور اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ سرحدی علاقوں میں دہشت گردی سے نمٹنا کتنا ضروری ہے۔

بیان کے مطابق افغانی سفیر پر یہ بات بھی واضح کی گئی کہ دہشت گردوں کو اس قسم کے حملے کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

یاد رہے کہ ایک پولیس اہلکار عالم پناہ کے مطابق، ہلاک ہونے والوں میں چار پولیس اہلکار، پانچ بارڈر پولیس کے اہلکار اور چترال سکاؤٹس کے سولہ اہلکار شامل ہیں۔ پولیس اہلکار کے مطابق جوابی کارروائی میں پندرہ شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

اہلکار کا کہنا ہے کہ جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب تحصیل دروش کے علاقے آروندو میں افغان سرحد کے نزدیک واقع چیک پوسٹ پر حملے سے کمرے میں آگ لگ گئی جہاں اسلحہ ذخیرہ کیا گیا تھا جس کے باعث کئی سکاؤٹس جل کر ہلاک ہوگئے۔

تحریک طالبان پاکستان مالاکنڈ کے ترجمان سراج الدین نے بی بی سی کو ٹیلی فون کر کے چیک پوسٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان جنگجوؤں نے تین سکاؤٹس چوکیوں پر حملہ کیا۔ طالبان ترجمان نے ستر اہلکارروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔طالبان ترجمان نے دعویٰ کیا کہ سات اہلکاروں کو اغوا بھی کر لیاگیا ہے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سوات، دیر اور باجوڑ کے طالبان افغانستان کے صوبے کنٹر اور نورستان میں مولوی فضل اللہ اور مولوی فقیر محمد کی نگرانی میں منظم ہو رہے ہیں۔ آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پرحملے ہو رہے ہیں اور بارہا افغان حکومت اور نیٹو کی اس جانب توجہ مبذول کرائی گئی ہے۔

چترال پولیس کے اہلکار کے مطابق افغان سرحد کے قریب بارڈر پولیس کی ایک چیک پوسٹ پر مُسلح شدت پسندوں نےحملہ کیا اور حملہ آوروں کی تعداد ایک درجن سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ مُسلح شدت پسند افغان طالبان معلوم ہو رہے تھے جو اس واقعہ کے بعد سرحد پار چلےگئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس واقعہ کے بعد سکاؤٹس فورس اور پولیس کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی۔

چترال میں شدت پسندوں کی جانب سے سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر حملہ اپنی نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے اور اس سے پہلے سوات اور قبائلی علاقوں میں چیک پوسٹوں پر کئی بار حملے ہوچکے ہیں جن میں درجنوں اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ لیکن چترال کو ایک پُرامن علاقہ سمھجا جاتا تھا۔

ریٹائرڈ کرنل کا اغواء اور قتل

کوہاٹ میں نامعلوم مُسلح شدت پسندوں نے ایک ریٹائرڈ کرنل کو اغواء کے بعد ہلاک کردیا ہے۔ جبکہ اغواء کاروں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ایک پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوگیا ہے۔

پولیس اہلکار محمد صدیق نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈیفینس کے علاقے میں ریٹائرڈ کرنل شکیل فجر کی نماز پڑھ کر گھر واپس جارہے تھے کہ گھر کے قریب سے نامعلوم مُسلح افراد نے انہیں اغواء کرلیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد پولیس نے اغواء کاروں کا پیچھا کیا تو انہوں نے پولیس پر بھی فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں ایک پولیس اہلکار ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے۔

پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ اغواء کار ریٹائرڈ کرنل کی لاش چھوڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔البتہ پولیس نے قریبی علاقے کا محاصرہ کرکے تلاشی شروع کی ہے۔

اسی بارے میں