مشرف کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم

پرویز مشرف تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پرویز مشرف سمیت تین افراد کو اس مقدمے میں اشتہاری قرار دیا جاچکا ہے

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کے ملزم اور سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم دیا ہے۔

سنیچر کے روز راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہونے والی اس مقدمے کی کارروائی کے دوران وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف ائی اے نے ملزم پرویز مشرف کی جائیداد کی تفصلات عدالت میں پیش کیں۔

ان تفصیلات کے مطابق پرویز مشرف کا اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد میں ایک زرعی فارم کے علاوہ گوارد میں ایک ہزار گز کا پلاٹ ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ایف آئی اے کے اہلکاروں نے عدالت کو بتایا کہ اُنہوں نے ملزم پرویز مشرف کی دیگر جائیداد کی تفصیلات حاصل کرنے کرنے لیے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی سے بھی رابطہ کیا تھا لیکن متعلقہ حکام نے اس ضمن میں کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔

ایف آئی اے حکام نے بینظیر بھٹو قتل کے مقدمے میں اشہتاری قرار دیے جانے والے ملزم پرویز مشرف کے مختلف بینکوں میں اکاؤنسٹس کی تفصیلات بھی فراہم کیں جس کے مطابق مختلف بینکوں میں پرویز مشرف کے آٹھ کروڑ ستر لاکھ روپے موجود ہیں۔ عدالتی حکم نامے کے بعد ان اثاثوں کو بھی منجمند کردیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ملزم پرویز مشرف ان دنوں برطانیہ میں مقیم ہیں۔ برطانیہ اور پاکستان کے درمیان مجرموں کے تبادلوں کا کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے۔

سنیچر کے روز اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے ملزمان کے وکلاء کی غیر حاضری کی وجہ سے ملزمان پر فرد جُرم عائد نہیں کی جاسکی۔ بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں ڈی آئی جی سعود عزیز اور ایس ایس پی خرم شہزاد بھی ملزم ہیں تاہم ان دنوں وہ ضمانت پر ہیں جبکہ پانچ ملزمان گُزشتہ تین سال سے اڈیالہ جیل میں ہیں۔ پرویز مشرف سمیت تین افراد کو اس مقدمے میں اشتہاری قرار دیا جاچکا ہے۔ عدالت نے اس مقدمے کی سماعت دس ستمبر تک کے لیے ملتوی کردی۔

اُدھر لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کے ایک ملزم شیر زمان کی ضمانت کی درخواست پر وفاق کو نوٹس جاری کیا ہے۔

اسی بارے میں