’چیف جسٹس نے رانا بلند سے حلف لے لیا‘

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption چیف جسٹس افتخار چوہدری نے اختر بلند رانا کی بطور آڈیٹر جنرل تعیناتی پر تحفظات کا اظہار کیا تھا

چیف جسٹس افتخار چودھری نے صدر آصف زرداری کےجوابی خط کے بعد نئےآڈیٹر جنرل اختر بلند رانا سے حلف لے لیا ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے چیف جسٹس افتخار کے خط کے جواب میں نئے تعینات ہونے والے آڈیٹر جنرل اختر بلند رانا کو اس عہدے کے لیے موزوں ترین شخص قرار دیا ہے۔

چیف جسٹس نے اختر بلند رانا سے حلف کو صدر کے تحریری بیان سے مشروط کیا تھا۔ تاہم صدر کی جانب سے لکھے گئےخط کے بعد چیف جسٹس نے اختر بلند رانا سے بطور آڈیٹر جنرل پاکستان حلف لے لیا۔

حلف اُٹھانے سے پہلے سپریم کورٹ کے سیکرٹری رجسٹرار ڈاکٹر فقیر حسین نے ایک تحریر پڑھ کر سُنائی جس میں کہا گیا تھا کہ چیف جسٹس نے صدر مملکت کو نئے اڈیٹر جنرل اختر بلند رانا سے متعلق صدر کو لکھے جانے والے خط میں جن تحفظات کا اظہار کیا تھا وہ وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے اور انٹر سروسز انٹیلیجنس یعنی آئی ایس آئی اور سپریم کورٹ میں آنے والے ایک گمنام خط پر سابق آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے کمنٹس پر مبنی تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ اس کے باوجود چیف جسٹس اختر بلند رانا سے بطور اڈیٹر جنرل آف پاکستان کے حلف لے رہے ہیں۔

حلف اُٹھانے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے نئے آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے کہا کہ اُن پر لگائے جانے والے تمام الزامات جھوٹے ہیں جن میں سے وہ بری ہوچکے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ خاتون کو ہراساں کرنے کے الزام میں وزیر اعظم نے اُنہیں بری کیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ کسی بھی سطح پر اگر اُن کے خلاف کوئی الزام ثابت ہوجائے تو وہ آئین کے ارٹیکل دو سو نو کے تحت کارروائی کا سامنا کرنے کو تیار ہیں۔ آئین کی اسی شق کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل میں اعلیٰ عدالتوں کے ججوں پر لگائے جانے والے الزامات پر بھی کارروائی ہوتی ہے۔ اختر بلند رانا نے میڈیا کے کردار کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس سے پہلے وہ ایڈیشنل آڈیٹر جنرل کے عہدے پر تعینات تھے۔

چیف جسٹس نے پچیس اگست کو صدرِ پاکستان کو لکھے گئے خط میں اختر بلند رانا کی بطور آڈیٹر جنرل تعیناتی کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کی تعیناتی پر نظرثانی کی جائے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق صدر زرداری نے اپنے جوابی خط میں کہا ہے کہ اختر بلند رانا کوخاتون کو ہراساں کرنے کے الزامات میں بری کردیا گیا تھا جبکہ اُن کی دوہری شہریت اس تعیناتی میں رکاوٹ نہیں ہے اور سروسز رولز میں اس پر کوئی قدغن نہیں ہے۔

یاد رہے کہ ارکان پارلیمنٹ اور بیوروکریٹس کی دوہری شہریت سے متعلق حال ہی میں حکمراں اتحاد میں شامل ہونے والی جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف کے رکن رضا حیات حراج نے قومی اسمبلی میں ایک بل پیش کیا تھا۔

اس بل میں دوہری شہریت کے حامل ارکان پارلیمنٹ کو نااہل قرار دینے کے بارے میں بھی کہا گیا تھا۔ رضا حیات حراج کو ہاؤسنگ اور تعمیرات کا وزیر مملکت بنایا گیا تھا تاہم حکومت کی طرف سے اس بل پر حمایت نہ کرنے پر اُنہوں نے وزارت سے استعفٰی دے دیا ہے۔

صدر کی جانب سے لکھے گئےخط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اختر بلند رانا کے پاس ایک سے زائد شناختی کارڈ ثابت نہیں ہوئے اور اُن کی تعیناتی میں تمام آئینی تقاضے پورے کیے گئے ہیں۔

جوابی خط میں کہا گیا ہے کہ اختر بلند رانا محکمے میں سنئیر ترین افسر ہیں اور اس عہدے پر تعیناتی اُن کا حق ہے۔

چیف جسٹس نے اپنے خط میں کہا تھا کہ آڈیٹر جنرل ایک آئینی عہدہ ہے اور ایک مرتبہ حلف اُٹھانے کے بعد اُنہیں اُن کے عہدے سے نہیں ہٹایا جاسکتا۔

اختر بلند رانا کی بطور آڈیٹر جنرل تعیناتی کے بعد پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی تمام ذیلی کمیٹیاں توڑ دی گئیں ہیں اور کمیٹی کے چیئرمین اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے کمیٹی کا اجلاس بُلانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں اس معاملے پر غور کیا جائے گا۔

ماضی میں اس کمیٹی کے اجلاس میں اختر بلند رانا کی ممکنہ آڈیٹر جنرل کے عہدے پر تعیناتی کو حزب مخالف کی جماعتوں کے ارکان نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور اُن پر بدعنوان سرکاری افسر ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔

اسی بارے میں