پاکستانی فوج کی چترال پر حملے کی شدید مذمت

Image caption ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس (چترال میں) کارروائی کے بڑے مثبت نتائج بھی نکلے ہیں: اطہر عباس

پاکستانی فوج نے چترال پر حملے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ افغانستان میں پاکستان سے گئے ہوئے شدت پسند محفوظ پناہ گاہوں میں روپوش ہیں جو گاہے بگاہے پاکستانی علاقوں پر حملے کرتے ہیں۔

بی بی سی ریڈیو کے سیربین پروگرام میں شفیع نقی جامعی سے بات کرتے ہوئے پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ کافی عرصے سے ہم نے نیٹو اور افغان نیشنل آرمی کے سینئر اہلکار کے ساتھ یہ مسئلہ اٹھایا ہوا ہے اور متعدد بار ان کو آگاہ کیا ہے کہ جو پناہ گاہیں نورستان اور کنڑ میں بنی ہوئی ہیں وہاں شدت پسندوں کو مکمل سپورٹ کیا جا رہا ہے، ہر قسم کی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور وہاں سے اٹھ کے یہ ہماری پوسٹوں پہ ہمارے سرحدی گاؤں پر حملے کر رہے ہیں۔

چترال: چیک پوسٹ پر شدت پسندوں کا حملہ، 25 اہلکار ہلاک

انھوں نے مزید کہا کہ’ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس (چترال میں) کارروائی کے بڑے مثبت نتائج بھی نکلے ہیں۔ جیسا کہ اس میں بنیادی بات یہ ہے کہ ہم اپنے علاقے میں کارروائی کر کے جو کنٹرول ختم ہوگیا تھا اس کو بڑھاتے ہیں یا رِٹ کو جو عملداری حکومت کی ہے اسے دوبارہ اس علاقے میں قائم کرتے ہیں، اس سے نہ صرف ہمیں فائدہ ہوتا ہے بلکہ وہاں بھی فائدہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر باجوڑ میں ڈاماڈولا، القاعدہ کا ہیڈکوارٹر کسی زمانے میں ہوتا تھا اس میں ہم نے کارروائی کرکے دہشت گردوں کا نہ صرف صفایا کیا ہے بلکہ اس وقت باجوڑ میں مکمل کنٹرول ہے۔‘

ان کے بقول اب باجوڑ سے فقیر محمد ہے، مولوی عمر ہے قاری ضیاء الرحمان ہے یا الزواہری جس نے ڈاماڈولا میں ہیڈکوارٹر بنایا ہوا تھا اب وہاں سے نکال دیے گئے ہیں لیکن اس وقت جب وہ کارروائی کر رہے تھے تو اس طرف نورستان اور کنڑ میں بھی کارروائی کر رہے تھے اور وہاں بھی وہ علاقہ متاثر تھا۔

’اب جب ہم نے اتنا بڑا آپریشن کر کے دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ براہِ راست نہ صرف ہمیں اس کا فائدہ ہے بلکہ افغانستان کو بھی فائدہ ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ دیر میں کئی واقعات ہو چکے ہیں، باجوڑ میں دو واقعات ہو چکے ہیں جس میں کوئی تین سو کے قریب وہاں سے دہشت گرد آئے ہیں اور یہ وہی لوگ ہیں جو سوات، دیر اور باجوڑ سے اٹھ کے اس پار گئے ہیں۔

اب اس کے متعلق کارروائی تو ہونی چاہیے جہاں ان کا گڑھ ہے۔ اگر ہم کارروائی کرتے ہیں تو وہاں جانے کا مطلب یہ ہے کہ ہم بارڈر کراس کریں اور وہاں جا کر انہیں ختم کریں۔ اب چترال میں ایک نیا فرنٹ کھلا ہے اس سے پہلے چترال میں اس قسم کا واقعہ نہیں ہوا تھا۔

Image caption افغانستان میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جارہی ہے، ہماری سمجھ سے بالا تر ہے: اطہر عباس

اطہر عباس نے کہا کہ جہاں تک ہاٹ پرسوٹ یعنی شدت پسندوں کا پیچھا کرنے کی بات ہے تو اس میں کچھ قانونی پہلو ہو سکتے ہیں اور ہم نہیں چاہتے کہ اس وقت ہم اس میں جائیں کیونکہ ان کی بھی اس قسم کی شکایت رہی ہے کہ دہشت گرد خاص طور پر شمالی وزیرستان کی بابت کہ وہاں سے حقانی نیٹ ورک یا دوسرے دہشت گرد اٹھتے ہیں تو یہ ذرا نازک معاملہ ہے لہذٰا ہم نے طے کیا ہوا ہے کہ بارڈر کے اس پار اپنے علاقے میں ہم کارروائی کریں گے اور اس پار اپنے علاقے میں وہ خود کارروائی کریں۔

انہوں نے کہا کہ اب یہ مسئلہ زیادہ گھمبیر ہوتا جارہا ہے اور اس میں ہمارا کافی نقصان ہوا ہے دیر، باجوڑ اور اب چترال میں۔

’اب اگر وہاں پر یہ سب مل جائیں اور ان کو پناہ گاہیں بھی مل جائیں جبکہ انہیں مکمل امداد بھی فراہم کی جارہی ہو چاہے وہ مالی امداد ہو یا سامان مہیا کیا جارہا ہو اور وہ ہمارے علاقوں میں آکر دوبارہ حملے کرنا شروع کردیں جہاں امن قائم ہوا ہے تو پھر حالات بگڑنا شروع ہوجاتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا ’ہم نے افغان حکومت اور نیٹو کو آگاہ کیا ہے کہ جو امن ہم نے قائم کیا ہے وہ اس طرح کے حملوں سے خطرے میں پڑ رہا ہے اور وہاں جو دہشت گرد بیٹھے ہوئے ہیں ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی ہے یہ ہماری سمجھ سے بالا تر ہے۔‘

اسی بارے میں