کراچی، بلوچستان پر پارلیمانی کمیٹی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کراچی میں رواں ماہ تشدد کے واقعات میں درجنوں افراد مارے گئے تھے

پاکستان کی قومی اسمبلی کی سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کراچی اور بلوچستان میں امن وامان کی صورت حال سے متعلق ایک سترہ رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

یہ کمیٹی ان علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد دو ماہ کے اندر اپنی سفارشات قومی اسمبلی میں پیش کرے گی جن پر ایوان میں بحث بھی ہوگی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کا کہنا ہے کہ اس پارلیمانی کمیٹی میں حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے پانچ ارکان خورشید احمد شاہ، قمر زمان کائرہ، نور عالم ، آیت اللہ درانی اور قادر پٹیل شامل ہیں۔

قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کے چار ارکان سردار مہتاب احمد خان، خواجہ آصف، زاہد حامد اور رانا تنویر جبکہ حال ہی میں حکمراں اتحاد میں شامل ہونے والی پاکستان مسلم قاف کے تین ارکان غوث بخش مہر، ریاض پیرزادہ اور زبیدہ جلال کو کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔

Image caption فہمیدہ مرزا سے کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ تمام جماعتوں نے کیا تھا

ان کے علاوہ متحدہ قومی موومنٹ سے حیدر عباس رضوی اور سہیل منصور جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے غلام احمد بلور، جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن گروپ کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے علاوہ فنکشنل لیگ کا بھی ایک رکن اس کمیٹی کا حصہ ہے۔

اس پارلیمانی کمیٹی کے ارکان کراچی اور کوئٹہ میں نہ صرف متاثرہ افراد سے ملاقات کریں گے بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام سے امن وامان کے حوالے سے بریفنگ بھی لیں گے۔

اس کے علاوہ پارلیمانی کمیٹی کے ارکان اُن محرکات کا بھی جائزہ لیں گے جن کی وجہ سے ان علاقوں میں امن وامان کی صورت حال خراب ہو رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption بلوچستان میں بھی امن و امان کی صوررتحال تسلی بخش نہیں

کراچی اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ تمام جماعتوں کا تھا۔ عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ اس معاملے میں بظاہر تذبذب کا شکار تھیں تاہم جب ایوان میں موجود باقی ماندہ جماعتوں نے اس کمیٹی کے قیام کا پُرزور مطالبہ کیا تو یہ جماعتیں بھی اس میں شامل ہو گئیں۔

وزیر داخلہ رحمان ملک نے بھی قومی اسمبلی کی سپیکر سے کراچی اور بلوچستان سے متعلق پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ جب یہ پارلیمانی کمیٹی ان علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد اپنی حتمی رپورٹ پیش کرے اور ان واقعات میں شامل افراد اور جماعتوں کی نشاندہی کر دے تو پھر تمام جماعتیں ایسے افراد سے لاتعلقی کا اظہار کریں تاکہ حکومت ایسے افراد کے خلاف کُھل کر کارروائی کر سکے۔

اسی بارے میں