ذوالفقار مرزا: تمام کشتیاں جلا کر آیا شخص تھا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

جب کوئی سیاست کو اٹھا کر کھڑکی سے باہر پھینک دیتا ہے تو پھر وہ بظاہر ذوالفقار مرزا کی طرح کی کھری کھری باتیں کرتا ہے۔ نہ مصلحت، نہ مفاہمت اور نہ ہی کسی کی دوستی یارانہ۔ ذوالفقار مرزا نے سب کچھ بظاہر بالائے طاق رکھ دیا۔ ایک شخص قرآن کو سر پر رکھ کر اگر کوئی بات کرتا ہے تو پھر بعض حلقوں کی جانب سے ان کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ بےمعنی لگتا ہے۔ ویسے انہوں نے سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہونے کی پیشکش تو کر ہی دی ہے۔

ذوالفقار مرزا نے جو کہنا تھا کہہ دیا لیکن معاملے کی سنگینی کو شاید کم کرنے کی ایک کوشش کے طور پر بعض سیاسی تجزیہ کار تو ذوالفقار مرزا کو ذہنی مریض تک قرار دینے لگے ہیں۔ اس کا شک ان کے گزشتہ دنوں ایک بیان کے بعد ہوا جس پر دیکھتے ہی دیکھتے کراچی میں خون کی ہولی نے درجنوں افراد کی جان لے لی۔ اس وقت وہ یقیناً بغیر سوچے سمجھے، جھگڑالو شخص کا بےموقع بےمحل بیان تھا۔ لیکن اتوار کوکراچی پریس کلب میں کچھ ایسا نہیں تھا۔ یہ شخص اپنی تمام تیاری کے ساتھ، تمام کشتیاں جلا کر آیا شخص تھا۔

کراچی میں کسی نے کھل کر ایسی باتیں کبھی نہیں کیں۔ ملک کی ایک بڑی مضبوط جماعت سے متعلق ایسی باتیں تو کوئی نیند میں بھی کرنے سے ڈرتا ہے لیکن انہوں نے سب کہہ دیا۔ ان کے بیانات کو وزن دینے کی بڑی وجہ ان کا سندھ کے سابق وزیر داخلہ اور سینیئر وزیر ہونا ہے۔ انہوں نے بہرحال گزشتہ تین برسوں میں تمام صورتحال کو انتہائی قریب سے دیکھا ہے۔ اس لاوا کے پھٹ پڑنے کی شاید وجہ تین برس میں ایم کیو ایم کو قابو میں لانے میں ان کی ناکامی بھی ہوسکتی ہے۔

ان کی باتیں اور الزامات اس وقت صدر آصف علی زرداری کے مسائل میں اضافہ ہی کر سکتے ہیں۔ ان کی مفاہمت کی پالیسی کو کئی قدم پیچھے لیجا سکتی ہے۔ لہٰذا ان کا اس ’شو‘ میں ہاتھ ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ لیکن سیاست میں کچھ بھی حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ذوالفقار مزرا کو خرچ کر کے سیاسی ’مائلج‘ حاصل کرنے کی تو کوئی کوشش نہیں۔

صدر نے تو چند روز پہلے ہی الطاف حسین کو ٹیلیفون کر کے حکومت میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔ ایسے میں کہیں ایم کیو ایم کے ساتھ ’گوڈ کاپ، بیڈ کاپ‘ کی پالیسی کے تحت نمٹنے کی کوشش تو نہیں ہو رہی ہے؟ اس میں ایک عاد قریبی ساتھی اگر جاتا ہے تو یہ غالباً کوئی زیادہ بڑی قیمت نہیں۔ ایم کیو ایم کے خلاف جو باتیں کوئی نہیں کرسکتا تھا وہ بالآخر پیپلز پارٹی کے ہی ایک رہنما نے کہہ دیں۔

جیسا کہ توقع تھی پیپلز پارٹی اور مرکزی حکومت نے اخباری کانفرنس کے محض دو گھنٹوں کے اندر ہی وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق نے اسے ذوالفقار مرزا کی ذاتی رائے قرار دے کر اس سے لاتعلقی ظاہر کر دی۔ لیکن اس سے زیادہ اس کی ایک وجہ کراچی میں دوبارہ تشدد کی آگ بھڑکنے سے بچانے کی کوشش ہو سکتی ہے۔

ان کی جذباتی تقریر کی عام لوگ تو تعریف کر رہے ہیں لیکن بعض قرآن کو درمیان میں لانے اور اس طرح استعمال کرنے پر لعن طعن بھی کر رہے ہیں۔ لیکن اگر یہ سچ ثابت کرنے کے لیے کیا ہے، صحافی ولی خان بابر کے قاتلوں کو بےنقاب کرنے کے لیے کیا ہے، انصاف دلانے کے لیے کیا ہے تو پھر شاید اتنا غلط بھی نہیں۔ آخر جنہوں نے سیاسی، لسانی، معاشی یا پھر وقتی مفادات کے لیے گاجر مولی کی طرح مارے گئے ان کے لواحقین کو کچھ تو انصاف ملے۔

سندھ کے سابق وزیر داخلہ کے وفاقی وزیر داخلہ کے خلاف الزامات کے ساتھ ساتھ دیگر الزامات بھی توجہ طلب ہیں۔ یہ ایک ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب سپریم کورٹ بھی کراچی میں سماعت سوموار سے سماعت شروع کر رہی ہے۔ چھوٹی موٹی کارروائی تو بقول رحمان ملک ہو رہی ہے اور چھوٹے موٹے ملزمان اور آلائے کار پکڑے بھی جا رہے ہیں لیکن ایک بڑا درخواست گزر کہتا ہے ثبوت کے ساتھ موجود ہے اور راضی بھی ہے، بڑے جج بھی سوموار سے موجود ہوں گے اب کیا بڑے ملزمان حاضر ہوں گے؟

اسی بارے میں