کالعدم تنظیمیں: ’مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کی کوشش‘

حکومتِ پنجاب کے محکمہ داخلہ کی طرف سے کالعدم مذہبی وجہادی تنظیموں کے جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان کو زندگی کے دھارے میں لانے کے لیے ٹیکنیکل ٹریننگ کا اہتمام کیا گیا ہے۔

ابتدائی طور پر یہ ٹریننگ ضلع راجن پور میں فتح پور روڈ پر واقع آباد ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹر اور بہاول پور میں کے ایل پی روڈ پر واقع ٹیوٹا سینٹر میں ہو رہی ہے۔

ضلع بہاول پور میں اٹھارہ جبکہ ضلع راجن پور میں سولہ افراد کا انتخاب کیا گیا ہے۔

اس ٹیکنیکل ٹریننگ میں حصہ لینے والے کچھ نوجوانوں اور ٹرینرز نے بی بی سی کو ان کا نام صیغہ راز میں رکھے جانے کی شرط پر بتایا کہ مذکورہ ٹریننگ کا آغاز دس جولائی دو ہزار گیارہ سے ہوا ہے اور یہ دس اکتوبر دو ہزار گیارہ میں اختتام پذیر ہوگی۔

پیشہ ورانہ تربیت حاصل کرنے والوں میں کالعدم تنظیم جہاد الاسلامی، جیش محمد، حرکت الانصار، حرکت الجہاد الاسلامی، لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ اور سپاہ محمد سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔

اس ٹریننگ پروگرام میں جو افراد حصہ لے رہے ہیں ان میں زیادہ تعداد ان نوجوان افراد کی ہے جن کا تعلق جہادی تنظیموں سے ہے۔

تحصیل احمد پور شرقیہ کے قصبہ ڈیرہ نواب سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کا کہنا ہے کہ انھیں تھانہ ڈیرہ نواب صاحب کے اہلکاروں نے بلاکر کہا تھا کہ فورتھ شیڈول میں شامل وہ لوگ جنھوں نے افغانستان سے جہاد کی تربیت لی ہوئی ہے اور انھوں نے افغانستان کے جہاد میں بھی حصہ لیا ہے وہ اس سولہ ہفتوں کی ٹریننگ میں حصہ لے سکتے ہیں۔

ان کے مطابق انھیں شعبہ الیکٹریکل کی مفت تربیت دیے جانے کے ساتھ ساتھ ان کے لیے آٹھ سوروپیہ ماہانہ وظیفہ بھی مقرر کیا گیا ہے۔

ضلع راجن پور کے ٹیوٹا سینٹر سے تعلق رکھنے والے ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ ان کے ادارے میں شعبہ الیکٹریکل بند ہوچکا تھا مگر پنجاب حکومت کے محکمہ داخلہ کے اس فیصلے کے بعد ان لوگوں کے لیے سات استادوں کو بھرتی کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تربیت لینےوالوں کا مائنڈ سیٹ بدلنے کے لیے نہ صرف ماہرِ نفسیات کا بندوبست کیا گیا ہے بلکہ انھیں سرکاری مذہبی معلم دینی تعلیم بھی دیتے ہیں۔

کالعدم جہادی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی پیشہ وارانہ تربیت کے حوالے سے شروع کیے جانے والے اس پروگرام کی تصدیق اور مزید معلومات کے کے لیے جب ضلع راجن پور میں تعینات سپیشل برانچ کے انچارج اختراسلام سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اس حوالے سے کسی قسم کی معلومات دینے سے قاصر ہیں۔

اسی بارے میں