’پشت پناہی کرنے والوں کا جاننا چاہتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کراچی کی صورتحال پر از خود نوٹس کی سماعت منگل تک ملتوی کر دی گئی ہے

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کراچی میں امن و امان کی صورتحال سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے موقع پر ریماکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ شہر میں کس نے کس کو مارا، کس مقام پر مارا ، کس لیے مارا اور ملزمان کی پشت پناہی کون کر رہا ہے؟

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے کراچی میں امن وامان کی صورتحال سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی۔

کراچی: ’ایک ماہ میں تین سو افراد قتل‘

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق پیر کو سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری میں سماعت کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیےگئے۔ سماعت کے موقع پر وفاق کی جانب سے اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق، سابق وزیر قانون بابر اعوان، سندھ حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل عبدالفتاح ملک، عبدالحفیظ پیرزادہ آئی جی سندھ واجد درانی، ایڈیشنل آئی جی سعود مرزا پیش ہوئے ہیں۔

حکومت کی جانب سے سپیشل برانچ اور ایف آئی اے کے انسداد دہشتگردی ونگ کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ پر عدالت نے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

چیف جسٹس نے سپیشل برانچ کی رپورٹ پر ریماکس دیتے ہوئے کہا کہ اس میں نیا کیا ہے؟ یہ وہ ہی مواد ہے جو کراچی کی صورتحال پر اخبارات میں شائع ہوتا رہتا ہے۔انہوں نے اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق کو کہا کہ ایسا مواد پیش کیا جائے جو عدالت کے لیے مددگار ثابت ہو۔

انھوں نے ریماکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ’ کس نے کس کو مارا، کس مقام پر مارا گیا، کیوں مارا گیا اور ملزمان کی پشت پناہی کون کر رہا ہے۔‘

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے انٹیلیجنس بیورو، آئی ایس آئی اور ایم آئی کی رپورٹ کے بارے میں معلوم کیا جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ انٹیلیجنس بیورو نے وقت مانگا ہے جبکہ دوسرے اداروں کی رپورٹ اتوار کی چھٹی ہونے کے باعث نہیں آ سکی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ سماعت میں چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی تھی کہ وہ خفیہ ایجنسیوں کے سربراہوں کے ساتھ ملاقات کر کے جامع رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔

آئی جی سندھ واجد درانی نے عدالت کو بتایا کہ پولیس کی کوششوں سے اٹھارہ لوگ بازیاب ہوئے ہیں جس پر چیف جسٹس نے ان سے دریافت کیا کہ کیا ان کے بیانات قلمبند کیے گئے ہیں، اس کے ساتھ انہوں نے آئی جی سے سوال کیا کہ انہوں نے میڈیا رپورٹس دیکھیں کہ ایک شخص بوری میں سے زندہ نکلا ہے کیا وہ بھی پولیس کی کوششوں سے رہا ہوا۔

آئی جی نے واضح کیا کہ نہیں وہ اپنے طور رہا ہوا۔ چیف جسٹس نے ان سے پوچھا کہ کیا اس سے شخص کا بیان لیا گیا ہے اسے کس نے اغوا کیا تھا اور کہاں رکھا تھا، وہ ایک اہم گواہ بن سکتا ہے۔ اس موقعے پر ایڈیشنل آئی جی سعود مرزا واجد درانی کے معاونت کے لیے پہنچے انہوں نے بتایا کہ لوگ پریشان اور ڈرے ہوئے ہیں۔

پولیس کی جانب سے عدالت کو ٹارگٹ کلنگ کی روک تھام کے لیےاٹھائےگئے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے ریمارکس دیتے ہوئِے کہا کہ جب تک شہر سےغیر قانونی اسلحہ برآمد نہیں کیا جائےگا کچھ بھی کرلیں کچھ نہیں ہوگا، یہ سلسلہ افغانستان جنگ سے شروع ہوا تھا اب اسے روکنا چاہیئے۔‛

سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل عبد الفتاح ملک نے اس موقعے پر موقف اختیار کیا کہ پچھلی حکومتوں میں جن لوگوں کو اسلحہ لائسنس جاری کیے گئے ان کے کردار کو پرکھا نہیں گیا تھا، جس کے باعث جرائم پیشہ افراد کے پاس بھی لائسنس یافتہ اسلحہ موجود ہے۔

جس پر جسٹس امیر ہانی مسلم نے انہیں مخاطب ہوکر کہا کہ کراچی کے واقعات میں غیر قانونی اسلحہ استعمال ہوتا ہے، جس کی آئی جی سندھ واجد درانی نے وضاحت کی کہ کئی بار پولیس نے لائسنس یافتہ اسلحہ سمیت ملزمان کو گرفتار کیا ہے جن کو بعد میں رہا کردیا گیا۔

آئی جی سندھ واجد درانی نے عدالت کو بتایا کہ ان کی موبائل جی ایس ایم ٹریکنگ سسٹم اور رکارڈ تک رسائی نہیں ہے صرف آئی ایس آئی کو یہ اختیار حاصل ہے، جس پر چیف جسٹس نے ان سے سوال کیا کہ پولیس کے پاس یہ رسائی کیوں نہیں ہے۔ آئی جی سندھ واجد درانی نے انہیں بتایا کہ وفاقی حکومت اس کی اجازت نہیں دیتی ہے ان کی درخواست ہے کہ پولیس کو بھی اس کی رسائی دی جائے پھر چاہے یہ اعلیٰ پولیس حکام کے پاس ہو۔

عدالت نےمزید سماعت کل صبح تک ملتوی کردی، چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے سندھ حکومت نے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ کو کہا کہ وہ اس نقطے پر دلیل دیں کہ شہریوں کو آئینی کے تحت حاصل حقوق کے مطابق ان کی جان اور مال کے تحفظ کا بندوبست کیا گیا تھا یا نہیں اگر کیا گیا تو کس حد تک انتظامات تھے۔

سماعت کے موقع جماعت اسلامی، سندھ ہائی کورٹ بار، قوم پرست جماعتوں کے اتحاد سندھ بچاؤ کمیٹی، قوم پرست جماعت عوامی تحریک، عوامی نیشنل پارٹی نے سماعت میں فریق بننے کی درخواست دائر کی۔

اس پر چیف جسٹس نے ریماکس دیتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں تحریری طور پر درخواست جمع کرائی جائے۔ سماعت کے موقع پر سکیورٹی کے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں اور عدالت کی جانب والی سڑک کو کنٹینرز کی مدد سے بند کیا گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ سماعت کے موقع پر اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ کراچی میں سماعت کے موقع پر بارہ مئی جیسا واقعہ پیش آ سکتا ہے۔

اس سے پہلے جمعہ چھبیس اگست کو ہونے والی سماعت میں حکومتِ سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران کراچی میں تین سو افراد کو قتل کیا گیا جبکہ ان واقعات کے مقدمات درج کرنے کے علاوہ نقص امن کے بھی پانچ سو مقدمات درج کیے گئے۔

اسی بارے میں