جارجیا سے سندھ تک کا سفر

ذوالفقار مرزا تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ذوالفقار مرزا کو آصف علی ‍زرداری سے دوستی کی وجہ سے انیس سو اٹھاسی کے انتخابات میں پی پی پی کا ٹکٹ دیا گیا

حیدرآباد سندھ میں مشہور نہر پھلیلی کے پار اور کراچی سے ملک کے بالائی حصے میں جانیوالی ریلوے لائین یا بذریعہ روڈ حیدرآباد میرپورخاص روڈ کے قریب بڑے اونچے علموں، امام بارگاہوں اور حویلیوں والا ایک قدیم سندھی محلہ ٹنڈو ٹھوڑو ہے جو مرزا محلہ کہلاتا ہے۔

حیدرآباد سندہ کے لالو کھیت یا اکثریتی اردو بولنے والی لیکن محنت کش آبادی پریٹ آباد، جو کہ ماضی قریب تک مذہبی سیاسی جماعتوں خاص طور پر مولانا نورانی کی جمعیت علمائے پاکستان اور انیس سو ستتر میں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف چلنے والی تحریک پاکستان قومی اتحاد کا گڑھ رہی تھی، کے بلکل بازو میں یہ قدیم تاریخی محلہ ٹنڈو ٹھوڑو واقع ہے۔

ٹنڈو ٹھوڑو میں مرزائوں کو گرجی مرزا کہا جاتا ہے۔ جارجیا کی ایران کے ساتھ جنگ میں دو چھوٹے بچوں اور بھائیوں مرزا خسرو بیگ اور مرزا سڈنی بیگ کو جنگی قیدی بنا کر ایران لایا گیا اور پھر ایران کے بادشاہ کی طرف سے تالپور حکمرانوں کو تحفے میں دے دیا گیا تھا۔

جارجیا کے یہ دو بچے اتفاق سے اس وقت کے عیسائی خاندان سے تعلق رکھتے تھے جبکہ تالپور مسلم شیعہ عقیدے سے تعلق رکھتے تھے۔ لیکن یہ دونوں گرجائی بچے تالپور حکمران خاندان کے ساتھ گھل مل گئے اور انہوں نے تعلیم و تربیت و ذہانت کی وجہ سے عوام اور خواص میں بہت ہی پذیرائي حاصل کی۔

ان میں سے ایک کے ہاں ہونے والا بیٹا مرزا قلیچ بیگ سندھی نثر کے امام مانے جاتے ہیں اور شعر و ادب میں انہیں انگریزوں نے شمس العلماء کا خطاب دیا تھا اور وہ تحصیلدار بھرتی ہوکر انگریزوں کے زمانے میں ڈپٹی کلکٹر ریٹائرڈ ہوئے تھے۔

اگر انگریز حکام مرزا قلیچ بیگ کو شمس العلماء کا خطاب نہیں بھی دیتے تب بھی وہ سندھی ادب و شعر کے سورج تو تھے ہی کہ انیسویں صدی کے آخر تک انہوں نے پہلا سندھی ڈرامہ لکھا اور ناول تحریر کیا اور روسی ادیبوں گوگول و دیگر مصنفوں کے ڈراموں کا بھی سندھی میں ترجمہ کیا۔

ٹنڈو ٹھوڑو کے مرزا خاندانوں کی دوسری زبان اردو اور فارسی رہی ہے اور انکے بچوں اور بچیوں کی شادیاں اردو بولنے والے خاندانوں میں بھی ہوئی ہیں۔

مرزا خاندان کی خواتین فارسی اور اردو کی مرثیہ گو اور صاحب بیاض شاعرائيں بھی پیدا ہوئی جن میں ایک بزرگ خاتون بہادر شاہ ظفر کی نواسی بھی تھیں۔ مذہبی طور پر یہ مختلف عقیدوں سے تعلق رکھتے ہیں ان میں مرزا قلیچ بیگ کے ایک بیٹے مرزا اجمل بیگ سنی مسلک کے جبکہ سندھ کے اوآئلی افسانہ نگار مرزا نادر علی بیگ کی بیٹی اور اپنے عہد کی معرکتہ آلارا خاتوں شیرین فیروز نانا عیسائي عقیدہ رکھتی تھیں۔

ذوالفقار مرزا کے دادا ڈپٹی کلکٹر علی نواز مرزا قلیچ بیگ کے خاندان سے تھے جبکہ ان کے والد سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ظفر حسین مرزا ہیں۔ جسٹس ظفر حسین مرزا اور حیدرآباد کے قاضی خاندان کے قاضی عبد المجید آپس میں سالے بہنوئی ہیں۔

قومی اسمبلی کی اسپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا ضیاءالحق کے سابق وفاقی وزیر اور بینظیر بھٹو کے دور میں پی پی پی کے ایم این اے قاضی عبد المجید عابد کی بیٹی ہیں۔

جسٹس ظفر حسین مرزا سندھ کی عدلیہ میں ایک کیئریر جج رہے ہیں جو انتہائي ایماندار منصف بتائے جاتے تھے۔ ذوالفقار مرزا جسٹس ظفر حسین مرزا کے بڑے بیٹے ہیں جو کیڈٹ کالج پیٹارو میں پڑھے ہیں جہاں ان کی دوستی آٹھویں جماعت سے ہی آصف علی زرداری کے ساتھ ہو گئی تھی۔

ذوالفقار مرزا لیاقت میڈیکل کالج جامشورو میں پہنچے جہاں وہ پاکستان پیپلزپارٹی کی سندھ میں طلبہ تنظیم سندھ پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر تھے۔

وہ ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمہ اور پھر پھانسی کے خلاف طلبہ کے احتجاج میں جامشورو سے لڑاکا کردار کے حامل رہے تھے اور انکی تلاش میں پولیس اور خفیہ فوجی ایجینسیوں نے ان کے والد جسٹس ظفر حسین مرزا کی رہائشگاہ پر چھاپے بھی مارے تھے۔

لیکن یہ ذوالفقار مرزا کی آصف علی ‍زرداری سے دوستی تھی جس کی وجہ سے انیس سو اٹھاسی کے انتخابات میں انہیں قومی اسمبلی کی نشست پر پی پی پی کا ٹکٹ دیا گیا تھا اور وہ بدین سے منتخب ہوئے۔

جب انیس سوچھیانوے میں فاروق لغاری نے پی پی پی حکومت ختم کی تو وہ زیادہ عرصہ حکومت کو مطلوب اور اپنے حلقے میں ہی سیاسی خاموشی اختیار کر کے روپوش رہے۔

دو ہزار سات میں مشرف حکومت اور آئی ایس آئی سے بینظیر بھٹو اور زرداری کے مذاکرات کے نتیجے میں سب سے پہلے ایک سمجھوتے کے تحت ٹیسٹ کیس کے طور پر ذوالفقار مرزا ہی بدین میں روپوشی ختم کر کے منظر عام پر آئے تھے۔

اسی بارے میں