’ہندو ہیں اس لیے مدد نہیں ہوئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کیمپ میں سو خاندانوں کی رہائش ہے

’ہم کھلے آسمان کے نیچے تپتی ہوئی دھوپ میں بیٹھے ہیں اور اس کی وجہ سے بچے بیمار ہو رہے ہیں‘۔

یہ بیان مومل نامی اس خاتون کا ہے جو بدین سے چالیس کلومیٹر دور واقع قصبے کڑیوگھنور میں بارشوں کے نتیجے میں بےگھر ہونے والے سو سے زائد ہندو خاندانوں میں سے ایک کی رکن ہے۔

گولاڑچی سے بدین جاتے ہوئے بائیں طرف سڑک کڑیو گھنور کی جانب جاتی ہے جس کے دونوں اطراف بارش اور سیم نالے کا پانی کسی جھیل کا منظر پیش کرتا ہے جبکہ سڑک پر مختلف مقامات پر لوگ اپنے مال مویشی کے ساتھ موجود ہیں، ان کے لباس سے ہی معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ کسان اور اقلیتی ہندو ہیں۔

کڑیو گھنور شہر میں داخل ہوتے ہی کھلے میدان میں کیمپ نظر آگیا، جو شامیانوں کی مدد سے بنایا گیا تھا۔ بچے، خواتین اور بوڑھے چارپائیوں یا زمین پر لیٹے ہوئے تھے۔

اس کیمپ کی نگرانی شام لال نامی نوجوان کر رہے تھے۔ شام لال نے بتایا کہ اس کیمپ میں سو خاندانوں کی رہائش ہے تاہم وہ مزید لوگوں کو یہاں نہیں رکھ سکتے کیونکہ ان کے پاس گنجائش ہی نہیں ہے۔

انہوں نے شامیانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے یہ کرائے پر حاصل کیے ہیں اور پانچ ہزار روپے یومیہ کرایہ ادا کر رہے ہیں۔ شام لال کا کہنا ہے کہ وہ ’ضلعی انتطامیہ کے پاس مدد کے لیے گئے تھے مگر انہوں نے مدد کے بجائے الٹا ڈانٹا اور کہا کہ کس سے پوچھ کر یہ کیمپ قائم کیا ہے‘۔

اس کیمپ میں نہ تو پینے کے صاف پانی کا کوئی بندوبست تھا اور نہ ہی رفعِ حاجت کے لیے کوئی جگہ موجود تھی، جس کے باعث کیمپ میں گیسٹرو کا شکار ہو کر تین افراد ہلاک بھی ہوچکے ہیں۔

کیمپ میں موجود مومل نامی خاتون کا خیال تھا کہ وہ اقلیتی ہیں اس لیے مقامی سیاست دان یا انتظامیہ ان کی مدد نہیں کر رہی جبکہ اس کے برعکس مسلمان متاثرین کو وہ امداد ملتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔

کڑیوگھنور میں ہلال احمر امدادی کاموں میں مصروف ہے، مگر مقامی ہندوؤں کو ان سے بھی شکایت ہے کہ وہ مقامی وڈیروں کی نشاندہی پر ہی کام کر رہے ہیں۔

میرے وہاں قیام کے دوران سندھ کی ابھرتی ہوئی سیاسی جماعت عوامی جمہوری پارٹی کے رہنما اور کارکن کچھ خیمے اور دوائیں لے کر اس کیمپ میں پہنچے۔

عوامی جمہوری پارٹی کے رہنما ابرار قاضی نے بتایا کہ جہاں جاتے ہیں حکومت کی برائی سننے میں آتی ہے اور این جی اوز کے لوگوں کہتے ہیں کہ انہیں کام سے روکا گیا ہے۔

ان کے مطابق’یہ شاید اس لیے کیا گیا ہے کہ تاکہ لوگوں کو یہ معلوم نہ ہو کہ کہاں سامان پہنچ رہا ہے اور نہیں؟ خاموش رکھنے کے لیے کسی ادارے کو آنے نیں دیا جارہا، ورنہ پندرہ لاکھ متاثرین کی مدد کے لیے تو حکومت کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ ہر ادارے اور فرد کی مدد حاصل کرے‘۔

اس سلسلے میں جب ڈی ڈی او ریلیف دادلو زہرانی نے دریافت کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’متاثرین کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے خیمے انہیں کم ملے ہیں جبکہ راشن اور خوراک جتنا ممکن ہو سکا ہے لوگوں کو فراہم کیا جا رہا ہے مگر لوگوں کو اب بھی شکایتیں ہیں‘۔

انہوں نے کہا ’چونکہ نقصان زیادہ ہوا ہے اس کے مقابلے میں انہیں جو بھی ریلیف مل رہا ہے وہ فطری طور پر انہیں کم ہی نظر آئے گا‘۔ ان کے مطابق ضلعی انتظامیہ اپنی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ سب متاثرین کو ریلیف پہنچایا جائے۔

اسی بارے میں