مہران حملہ،’تفتیش بندگلی میں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بائیس مئی کی رات چند مسلح افراد کراچی میں واقع پاکستانی بحریہ کے اڈے میں داخل ہو گئے تھے اور وہاں کھڑے دو پی تھری اورین طیاروں کو تباہ کر دیا تھا

پاکستان کے عسکری ذرائع کے مطابق بحریہ کی کراچی میں قائم مہران بیس پر دہشت گرد حملے کی تحقیقات تین ماہ سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکیں۔

پاکستانی بحریہ کے ترجمان نے اس حملے کے بارے میں ہونے والی تحقیقات کے بارے میں کسی قسم کی معلومات فراہم کرنے سے معذرت کی ہے۔

مہران بیس پر حملہ، کب اور کیسے

بحریہ حملہ کیس:’چاروں حملہ آور غیر ملکی تھے‘

پاکستان کے دفاعی ادارے پر ہونے والے اس سنگین حملے کی تحقیقات سے واقف بعض افسران کا خیال ہے کہ ’یہ تفتیش بند گلی میں داخل ہو چکی ہے اور اس حملے کے بارے میں بعض اہم سوالوں کے جواب شائد اب کبھی نہ مل سکیں۔‘

ان اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اب تک کی تفتیش میں یہ تو معلوم ہو گیا کہ اس حملے میں کون کون براہ راست ملوث تھا لیکن اس کارروائی کی منصوبہ بندی کہاں کی گئی؟ اس کا ماسٹر مائنڈ کون تھا؟ حملے کے مقاصد کیا تھے اور حملہ آوروں کو کس نے اور کہاں تربیت فراہم کی؟ ان سوالوں کے جواب تفتیش کاروں کو نہیں مل سکے۔

پاکستانی بحریہ کے ترجمان نے اس حملے کے بارے میں ہونے والی تحقیقات کے بارے میں کسی قسم کی معلومات فراہم کرنے سے معذرت کی ہے۔

بی بی سی کے رابطہ کرنے پر کموڈور عرفان الحق نے کہا کہ وہ مہران حملہ کیس کے بارے میں ہونے والی تفتیش کے بارے میں کسی قسم کی معلومات نہ رکھتے ہیں اور نہ ہی میڈیا کو فراہم کر سکتے ہیں۔

بائیس مئی کی رات چند مسلح افراد کراچی میں شارع فیصل پر قائم پاکستانی بحریہ کے اڈے میں داخل ہو گئے تھے اور وہاں کھڑے دو پی تھری اورین طیاروں کو تباہ کر دیا تھا۔

بعد ازاں اعلیٰ سرکاری حکام نے تصدیق کی تھی کہ گو کہ اس کارروائی کے دوران حملہ آوروں کے علاوہ بحریہ کے گیارہ اور رینجرز کے دو اہلکار ہلاک ہوئے لیکن دہشت گردوں کا اصل ہدف سمندری نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے یہ خصوصی جنگی طیارے ہی تھے۔

قومی سلامتی سے متعلق افسران تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے اس حملے میں ملوث ہونے کے دعوے کو زیادہ اہمیت نہیں دے رہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس حملے کے محرک اور ’ماسٹر مائنڈ‘ ابھی تک تحقیق کاروں کی نظروں سے اوجھل ہیں۔

یاد رہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے مہران بیس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا انتقام قرار دیا تھا۔

اس حملے کی تحقیقات سے واقف بعض اہلکاروں کا کہنا ہے اب تک کی تفتیش میں صرف یہی طے ہو سکا ہے کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والے افراد غیر ملکی اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے تعلق رکھتے تھے۔

تفتیشی اداروں نے اس حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں چند افراد کو حراست میں بھی لیا ہے لیکن تحقیق ایک مخصوص نکتے سے آگے نہیں بڑھ سکی۔

تفتیشی ادارے اس حملے میں ملوث دو گروہوں کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں۔ ایک وہ جو اس کارروائی کے دوران ہلاک ہوئے اور دوسرے وہ لوگ جنہوں نے جانے یا انجانے میں ان حملہ آوروں کی مدد کی۔

تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیشی افسروں کو حملہ آوروں کے مددگاروں سے بھی حملے کے مقاصد، اس کے اہداف اور اس کے ماسٹر مائنڈ کے بارے میں واضح معلومات نہیں مل سکیں۔

یاد رہے کہ پاکستانی بحریہ کے افسران پر مشتمل فوجی عدالت نے مہران بیس کی حفاظت میں کوتاہی برتنے پر بحریہ کے تین افسران کو کورٹ مارشل کے تحت سزا سنائی ہے۔

اسی بارے میں