’ایمنسٹی کے الزامات حقائق کےمنافی‘

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ ap
Image caption پاکستان میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے مظاہرہ کر رہے ہیں: فائل فوٹو

پاکستان کے سابق وزیر اطلاعات اور حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے ترجمان قمر الزماں کائرہ نے پاکستان میں زبردستی گمشدگیوں کے بارے میں عالمی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنٹسی انٹرنیشنل کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔

قمر الزماں کائرہ نے کہا کہ یہ جو کہا گیا ہے ( کہ گمشدگیاں وسیع پیمانے پر ہوئی ہیں) ایسی بات نہیں ہے۔

’ہماری حکومت اس پر کام کررہی ہے۔ ہم نے ان کے ورثاء سے بھی کہا کہ ہمیں ان کی معلومات فراہم کریں لیکن ڈیڑھ سے دو سو افراد کے ورثاء نے ہی تفصیلات فراہم کی ہیں۔ یہ اس بات کا عکاس ہے کہ یہ حقائق کے منافی ہے کہ وسیع پیمانے پرگمشدگیاں ہورہی ہیں۔‘

پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش

انھوں نے کہا گمشدگیوں کے معاملے پر سپریم کورٹ نے بھی اس پر از خود کارروائی کی اور تمام متعلقہ حکام کو بلایا، وزیر اعظم نے بھی نوٹس لیا، پارلیمان نے بھی کمیٹی بنائی اور کمشن بھی بنے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے پاس ڈیڑھ سے دو سو افراد کی گمشدگیوں کی اطلاعات تھیں جس میں بہت سارے لوگ بازیاب ہوگئےہیں۔ تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ لوگ کہاں تھے اور کیسے بازیاب کیے گیے۔

قمرالزماں کائرہ نے کہا کہ یہ پرانے واقعات ہیں اور اب یہ رحجان نہیں ہے۔ساتھ ہی سابق وزیر اطلاعات نے کہا کہ اگر ایمنسٹی انٹرنیشنل یا کسی اور کے پاس گمشدہ افراد کے بارے میں کوئی مصدقہ خبر یا اطلاع ہے تو انھیں آگے آنا چاہیے اور حکومت کی مدد کرنی چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر ان کے پاس کوئی ثبوت ہے تو وہ حکومت کو فراہم کریں بجائے یہ کہ وہ رپوٹس شائع کریں۔ ’ہم ان کی مدد کا خیر مقدم کریں گے۔‘

حکمراں جماعت پیپلز پارٹی کے ترجمان قمر الزماں کائرہ نے کہا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے ادارے کو اخباری تراشوں اور الزامات کی بنیاد پر غیر مصدقہ رپوٹیں جاری نہیں کرنی چاہیے۔

’میں ایمنسٹی انٹرنیشل کو زودر دے کر کہہ رہا ہوں کہ اگر ان کے پاس اس طرح کا کوئی ثبوت ہے تو وہ آگے آئیں اور انھیں (گمشدہ افراد کے بارے میں) دستاویزات اور شواہد پیش کرنے چاہیں، میں یقین دلاتا ہوں کہ حکومت اس پر کارروائی کرے گی۔‘

اسی بارے میں