شدت پسندی،’اکیس پر مقدمہ فوجی عدالت میں‘

پاکستان میں حکام نے شدت پسندی کے الزام میں گرفتار اکیس افراد کا مقدمہ فوجی عدالتوں میں چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ دنوں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شدت پسندی کے الزام میں قریباً ستر افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں سے زیادہ تر خیبر پختونخواہ سے حراست میں لیے گئے ہیں۔

ان افراد سے تفتیش کے بعد حکام نے ان میں سے اکیس افراد کے مقدمے فوجی عدالتوں میں بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سکیورٹی ذرائع نے بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کو بتایا ہے کہ دوران تفتیش ان افراد نے انکشاف کیا کہ انہوں نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں ، کوہاٹ اور سوات میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر خودکش حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں سکیورٹی فورسز پر خود کش حملہ کرنے والے حملہ آوروں کو جنوبی وزیرستان اور دیگر قبائلی علاقوں میں تربیت دی گئی تھی۔

ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہےکہ گرفتار ہونے والے افراد سے راولپنڈی میں پریڈ لین میں ہونے والے شدت پسندوں کے حملوں کی کڑیاں بھی ملتی ہیں تاہم اس ضمن میں اب تک کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوئی۔

ان حملوں میں ایک میجر جنرل اور دیگر اعلٰی فوجی افسران سمیت بیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ادھر قانون نافد کرنے والے اداروں نے وزارت داخلہ کے نائب قاصد سردار علی خٹک کو حراست میں لے لیا ہے۔ چند روز قبل اسلام آباد میں مذکورہ سرکاری اہلکار کے گھر پر چھاپے کے دوران تین شدت پسندوں کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے خود کش جیکٹس اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا تھا۔

پولیس ذرائع نے دعوٰی کیا ہے کہ اسلام آباد میں ایف سی کی چیک پوسٹ اور پولیس کی سپیشل برانچ پر ہونے والے خودکش حملوں کی منصوبہ بندی بھی مذکورہ سرکاری اہلکار کے گھر پر ہی ہوئی تھی اور ان واقعات میں خودکش حملہ آوروں کو اس سرکاری اہلکار نے ہی مدد اور سہولیات فراہم کی تھیں۔

اسی بارے میں