سندھ میں سیلاب سے جانی و مالی نقصان

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سیلاب کے سبب زبردست نقصان کا سامنا ہے

گزشتہ سال بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ صوبہ سندھ کو اس برس بھی شدید بارشوں کا سامنا ہے جس سے بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔

بارشوں کا سلسلہ گزشتہ تین روز سے وقفے وقفے سے جاری ہے جس کے باعث حیدرآباد، سکھر، گھوٹکی، سانگھڑ، میرپورخاص، عمرکوٹ، بدین، نوابشاہ اور نوشہرو فیروز میں کئی گاؤں زیر آب آچکے ہیں۔

بارشوں کے باعث ندی، نالوں اور نہروں میں طغیانی آگئی ہے، جس کی وجہ سے نوابشاہ، سکرنڈ، ڈھرکی، میھڑ، گڑھی خیرو اور ٹھٹہ میں نہروں کو شگاف پڑے ہیں۔ عید کی چھٹیوں اور عملے کی کمی کے باعث محکمہ آبپاشی کے حکام کو شگاف بند کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔

Image caption کئی علاقوں میں سیلاب کے سبب لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں

گولاڑچی، ترائی، ڈھرکی، میھڑ اور دیگر علاقوں میں چھتیں گرنے اور کرنٹ لگنے کے مختلف واقعات میں دس افراد ہلاک ہوگئے ہیں، جن میں چار بچیاں بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب نوابشاہ، سانگھڑ، میرپورخاص اور بدین میں بارشوں کے بعد ایل بی او ڈی سیم نالے میں طغیانی آگئی ہے، گزشتہ ماہ نالے کو شگاف پڑنے سے ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے تھے جو ابھی تک سرکاری اور نجی کیمپوں میں موجود ہیں۔

پانی کی نکاسی نہ ہونے اور امداد نہ ملنے پر تلھار، محراب پور، نوابشاہ، گولاڑچی اور بدین میں لوگوں نے احتجاجی جلوس نکالے کر دھرنے بھی دیئے ہیں۔

تلھار میں احتجاج کے دوران سیلاب متاثرین اور پولیس کی جھڑپیں ہوئی ہیں، جس میں پولیس کی فائرنگ سے دو متاثر زخمی ہوگئے۔

دوسری جانب بارشوں سے کپاس، چاول اور مرچ کی فصلیں اور کیلے کے باغات متاثر ہو رہے ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال کی بارشوں اور سیلاب سے بھی کاشت کاروں کو نقصان پہنچا تھا۔

ادھر محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بارشوں کا یہ سلسلہ آئندہ دو روز تک جاری رہے گا۔

اسی بارے میں