فیصل آباد: جماعت احمدیہ کا رکن قتل

Image caption لاہور میں احمدیوں کی دو عبادت گاہوں پر حملوں میں نوے افراد ہلاک ہو گئے تھے

فیصل آباد میں جماعت احمدیہ کے ایک رکن کوفائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔ جماعت احمدیہ کے ترجمان کے مطابق انہیں محض عقیدے کی بنیاد پر قتل کیا گیاہے اور ان کے بقول صرف فیصل آْباد میں اب تک قتل ہونے والے وہ گیارہویں احمدی ہیں۔

لاہور سےنامہ نگار علی سلمان کے مطابق پچپن سالہ مقتول نسیم احمد بٹ کو ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب تین نامعلوم افراد نے اس وقت گولیاں مار کے شدید زخمی کردیا جب وہ اپنے گھر کے صحن میں سوئے ہوئے تھے۔

نسیم احمد بٹ کو ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ اتوار کی صبح زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑگئے۔ مقتول کے ورثا نےنامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرادیا ہے۔

جماعت احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ انہیں محض احمدی ہونے کی بنیاد پر قتل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ برس مقتول کے ایک چچا زاد بھائی نصیر احمد بٹ کو بھی بھرے بازار میں فائرنگ کرکے قتل کیا گیاتھا۔

جماعت احمدیہ کے مطابق کچھ عرصےپہلے فیصل آباد میں ایک پمفلٹ تقسیم کیاگیا تھاجس میں احمدیوں کے قتل کو کار ثواب قرار دیا گیا۔ترجمان کا کہناہےکہ پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے سوا اس پر کوئی کارروائی نہیں کی۔

جماعت احمدیہ کا کہنا ہے کہ سنہ انیس سوچوراسی میں امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری ہونے کے بعدسےلیکر اب تک ان کی جماعت کے دو سو سات افراد کو محض عقیدے کی بنیادپر قتل کیا جاچکا ہے۔ مقتول نسیم احمد بٹ کو ربوہ میں سپرد خاک کیا جارہا ہے۔

اسی بارے میں