سپریم کورٹ ذوالفقار مرزا کو طلب کرے: اے این پی

ذوالفقار مرزا تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کراچی کی صورتحال پرسپریم کورٹ کےازخود نوٹس کیس کی سماعت عید کی تعطیلات کے بعد پیر کودوبارہ شروع ہوئی توعوامی نیشنل پارٹی کے وکیل افتخارگیلانی نےاپنے دلائل کا آغاز کیا اور استدعا کی کہ سندھ کے سابق وزیر داخلہ اور سینئر وزیر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کو عدالت میں طلب کیا جائے۔

افتخار گیلانی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ذوالفقار مرزا نے جو الزامات لگائے ہیں وہ سنگین نوعیت کے ہیں اور سپریم کورٹ انہیں طلب کرے، کیونکہ حکومت اس معاملے میں خود فریق ہے۔

انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ٹارگٹ کلنگ کی بنیاد نہ تو لسانی ہے اور نہ ہی یہ گینگ وار ہے کیونکہ گینگ ہمیشہ ایک دوسرے کہ لوگ مارتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت اردو قومی زبان ہے اور ہم سب اردو بولتے ہیں۔

’الطاف حسین کا خط، خدمات اور مطالبات‘

ذوالفقار مرزا کا طوفان، کوئی گھرے گا یا نہیں؟

سندھ کے سینیئر وزیر مستعفی، رحمان ملک پر کڑی تنقید

انہوں نے جوائنٹ انویسٹی گیشن رپورٹ کے بھی کئی مندرجات عدالت میں پڑھ کر سنائے جس میں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماؤں حیدر عباس رضوی اور محمد انور کے نام بھی شامل تھے، تاہم انہوں نےکہا کہ ایم کیو ایم کےاپنے کارکنان بھی مارےگئے ہیں۔

اس پرعدالت نےاستفسار کیا کہ کیا یہ رپورٹ حکومت تک نہیں پہنچی توانہوں نےکہا کہ ان کے پاس ہے مگر وہ اس پر کارروائی نہیں کرتے۔

انہوں نےمزید کہا کہ ذوالفقار مرزا کے کسی بیان کی تردید نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں صحافی ولی خان بابر کے قتل کے ملزمان کے اعترافی بیانات بھی ہیں اور اس ضمن میں بھی کوئی تردید نہیں ہوئی۔

افتخارگیلانی نےتجویز دی کےسپریم کورٹ اس کیس کا فیصلہ نہ کرے بلکہ حکومت کی کارکردگی کومانیٹرکرے۔

اس پرسندھ حکومت کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ نےکہا کہ عدالتی کارروائی کی نوعیت تبدیل ہور رہی ہے اور یہ ازخود نوٹس ہے مگر نام لےکر ذمہ داری ڈالی جارہی ہے، اے این پی بھی توحکومت کا حصہ ہے۔

اس پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمدچودھری نےکہا کہ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ اگر بنیادی انسانی حقوق کاتحفظ نہ کیاگیاتو کیا نتائج نکلیں گے۔

افتخارگیلانی نے کہا کہ صوبائی حکومت وفاقی حکومت کی رائے لے کر فوج کو طلب کرسکتی ہے کیونکہ عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔

افتخارچودھری نےاس پرکہا کہ رینجرز کراچی میں موجود ہیں تو ہم کیوں حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ فوج بلائیں؟ ہمارا کام آئین پر عمل کرنا ہے نہ کہ حکومت پر قبضہ کرنا۔

افتخار گیلانی نےکہا کہ اگراجمل پہاڑی کےاعترافی بیان بعد اگر کارروائی کر لی جاتی تو حالات آج یہاں نہ ہوتے، حکومت کے پاس حالات بہتر کرنےکی اہلیت تو ہے مگراس کا ایسا ارادہ نہیں ہے۔

اس کےبعد سندھ بچاؤ کمیٹی جانب سے عبدالمجیب پیرزادہ نے اپنے دلائل کہا کہ حکومت کے متعدد غلط فیصلوں کی وجہ سے سندھ کے حالات بہت سنگین ہوچکے ہیں اور اندرونِ سندھ کے حالات کراچی سےبھی ابتر ہیں جہاں ڈ کیتی اوراغواءکی وارداتیں عام ہیں، خصوصاَ َہندو کاروباری حضرات کو تاوان کےلیے اغواء کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج سیلاب اور بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی جانیں بچا رہی ہے تو آئین کے تحت کراچی میں بھی یہ کام کرسکتی ہے کیونکہ حکومت لوگوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہوگئی ہے۔

اس کے بعد کراچی بار کی پٹیشن کو بھی سماعت کےلیے منظورکر لیا گیا۔ کراچی بار کے صدر محمد عاقل نے عدالت سے کہا کہ اس سال اب تک بیس وکلاء کو ٹارگٹ کلنگ کانشانہ بنایاگیا ہے اور انتظامیہ کچھ نہیں کر رہی۔ انہوں نے مقتول وکلاء کےنام اوردیگر کوائف عدالت کو دیئے جس پر عدالت نے آئندہ سماعت میں مذکورہ کیسوں کی ایف آئی آر بھی پیش کرنےکاحکم دیا۔

آخر میں عدالت نے آئی جی سندھ واجد علی درانی کوطلب کیا۔ آئی جی سندھ نے عدالت میں مغوی افراد کے بیانات کی نقول فراہم کیں اور بتایا کہ عید کی پانچ چھٹیوں میں بھی وہ کام کرتے رہےہیں اوراس دوران انہوں نےمختلف اطلاعات پرچارسواکیس مقامات پر ریڈز کی ہیں اور کوئی علاقہ ایسا نہیں جہاں کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نےبتایا کہ گزشتہ روزتین ٹارگٹ کلرز کو گرفتار کیاگیا ہے۔

اس پرجسٹس افتخار چودھری نے ریمارکس دیئے کہ اسے تو آپ نے ٹی وی پر پیش کردیا ہے، ٹی وی پر اعترافی بیان تو کیس خراب کرتاہے، اور اس بیان کی حیثیت ہی کیا ہے، آپ کو اسے مجسٹریٹ کے سانے پیش کرنا چاہیے تھا، پورے ملک میں یہ عجیب حرکت شروع ہوگئی ہے کہ ملزم کو چادر سے ڈھانپ کر ٹی وی پر دکھایا جاتا ہے۔ ملزم کو تو چھپا کر رکھنا چاہیے۔

جسٹس افتخار چودھری نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر آپ پر کوئی دباؤ ہے تو ہمیں بتائیں ہم آپ کی مدد کریں گے ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہیں کیونکہ آخری ذمہ داری بہر حال آپ کی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اپنی ٹیم بنائیں یہی وقت ہے کہ آپ صحیح افسران کو لائیں ، تھانوں میں کام کرنے والے اچھے ایس ایچ اوز تعینات کریں تاکہ حالات بہتر ہوں ۔

جسٹس امیر مسلم ہانی نے کہا کہ کراچی میں لوگون کی لاشیں ایدھی اور چھیپا والوں نے اٹھائی ہیں وہاں پولیس نہیں پہنچی۔

اس پر آئی جی سندھ نے کہا کہ مجھے صرف دوماہ ہوئے ہیں اور میں نے اندرونِ سندھ بہت کام کیا ہے مگر کراچی کی وجہ سے ہماری ساری کارکردگی صفر ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد عدالت نے سماعت منگل چھ ستمبر تک کے لیے ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ کراچی کے حالات پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت سپریم کورٹ کا افتخار محمد چوہدری کی صدارت میں پانچ رکنی فُل بینچ کررہا ہے جس میں جسٹس غلام ربانی، جسٹس سرمد جلال عثمانی، جسٹص انور ظہیر جمالی، اور جسٹس امیر ہانی مسلم شامل ہیں ۔

کمرہ عدالت میں بابر اعوان ، ایڈیشنل آئی جی سندھ سعود مرزا ، سپریم کورٹ کی صدر عاصمہ جہانگیر ، جماعتِ اسلامی کے محمد حسین محنتی، اے این پی کے شاہی سید سمیت متعدد اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔

اسی بارے میں