اہم القاعدہ رہنما کوئٹہ سےگرفتار

یونس الموریطانی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption الموریطانی اسامہ بن لادن کے ساتھ براہ راست رابطے میں تھے: فوجی ترجمان

پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی نے کوئٹہ کے مضافاتی علاقے میں ایک کارروائی کے دوران القاعدہ کی بین الاقوامی کارروائیوں کے ذمہ دار اہم رہنما یونس الموریطانی کوگرفتار کر لیا ہے۔

پاکستانی فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے آئی ایس پی آر کے ایک اعلان کے مطابق امریکہ کی تکنیکی معاونت سے ہونے والی اس کارروائی میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکاروں نے بھی حصہ لیا۔

اعلان کے مطابق یونس الموریطانی القاعدہ تنظیم میں اہم اور سینیئر عہدے پر فائز تھے اور وہ امریکہ کے معاشی مفادات پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

اسلام آباد میں بی بی سی اردو کے نامہ نگار آصف فاروقی کے مطابق یونس الموریطانی اور اس کے ساتھ گرفتار ہونے والے دو افراد امریکہ میں تیل کی پائپ لائنوں، بجلی پیدا کرنے والے ڈیمز اور تیل لیجانے والے سمندری جہازوں کو بارود سے بھری کشتیوں کے ذریعے نشانہ بنانے کے منصوبے بنا رہے تھے۔

فوجی ترجمان کے مطابق گرفتار شدہ القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن کے ساتھ براہ راست رابطے میں تھے اور اسامہ کی ہدایت پر امریکہ پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اور ان کی گرفتاری القاعدہ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔

یونس الموریطانی کے بارے میں کہا جاتا رہا ہے کہ وہ القاعدہ میں تیسری اہم پوزیشن پر فائز رہے ہیں اور اس کے بین الاقومی آپریشنز کے انچارج بھی ہیں۔

فوجی ترجمان نے ان افراد کی گرفتاری کے وقت اور مقام کا تعین نہیں کیا لیکن سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ الموریطانی کو پچھلے ہفتے کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن سے گرفتار کیا گیا ہے۔

گرفتار شدہ دیگر افراد کی شناخت عبدالغفار الشامی اور مصارہ الشامی کے طور پر کی گئی ہے۔

Image caption فوجی ترجمان نے ان افراد کی گرفتاری کے وقت اور مقام کا تعین نہیں کیا

ترجمان کی جانب سے جاری کردہ اس بیان میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان ’مضبوط اور تاریخی‘ انٹیلی جنس تعاون کا بھی خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان اور امریکہ کی انٹیلی جنس ایجنسیاں ایک دوسرے کے قریبی تعاون سے دونوں ملکوں میں عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مل کر کام کر رہی ہیں‘۔

امریکہ نے بھی یونس الموریطانی کی گرفتاری کا خیرمقدم کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان ارنسٹ نے پیر کو واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کی خفیہ اور سکیورٹی ایجنسیوں کی کارروائی قابلِ تعریف ہے جس کے نتیجے میں القاعدہ کے ایک ایسے سینیئر رہنما کی گرفتاری عمل میں آئی جو امریکہ اور کئی دیگر ممالک کے مفادات پر حملوں کی منصوبہ بندی میں شامل تھا‘۔

القاعدہ رہنما کی گرفتاری کی خبر امریکی حکام کے ان دعووں کے ایک ہفتے بعد سامنے آئی ہیں جن میں کہا گیا تھا کہ افغان سرحد کے نزدیک پاکستانی علاقے میں ہونے والے ایک ڈرون حملے میں القاعدہ کے سینیئر رہنما عطیہ عبدالرحمان مارے گئے ہیں۔

اسی بارے میں