’اجمل پہاڑی، ٹارگٹ کلنگ میں ملوث‘

اجمل پہاڑی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اجمل پہاڑی کو گذشتہ سال گرفتار کیا گیا تھا۔

کراچی میں ٹارگٹ کلنگز کےحوالے سے کی گئی جوائنٹ انٹروگیشن رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شہر میں دو ہزار پانچ سے اب تک ٹارگٹ کلنگز میں سرگرم چھ گروہوں میں سے ایک گروہ کا سربراہ اجمل پہاڑی تھا۔

اجمل پہاڑی کو ٹارگٹ کلنگ کے الزام میں پچھلے سال گرفتار کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ میں دیگر ملزمان کے ساتھ اجمل پہاڑی کی بھی جوائنٹ انٹروگیشن رپورٹ پیش کی گئی ہے۔

یہ تفتیش پولیس، رینجرز، انٹیلی جنس بیورو، آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کے اہلکاروں کی موجودگی میں کی گئی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق ملزم نے بتایا کہ سال دو ہزار پانچ میں جیل سے رہائی کے تقریباً دو ماہ بعد اسے محمد انور نے ایم کیو ایم کے لندن سیکریٹیریٹ سے ٹیلیفون کر کے دبئی بلایا، جہاں ایک ہوٹل میں محمد انور سے ملاقات ہوئی جس میں لیاقت قریشی، شکیل عمر، امتیاز مانڈو اور سعید بھرم پہلے سے موجود تھے۔

رپورٹ میں اجمل پہاڑی کے اعترافی بیان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ محمد انور نے دوران میٹنگ حکم دیا کہ انہوں نے واپس کراچی جا کر ٹیمیں بنانی ہیں تا کہ متحدہ کے مخالفین کا کراچی سے صفایا کیا جا سکے۔ بقول اجمل پہاڑی اس سلسلے میں انہیں ایک لسٹ بھی فراہم کر دی گئی۔

اجمل پہاڑی کے بیان کے مطابق دبئی سے واپسی پر کراچی میں آٹھ ٹیمیں بنائی گئیں جو بلدیہ ٹاؤن، اورنگی ٹاؤن، پاک کالونی، لیاقت آباد، لائنز ایریا اور لیاری کے علاقوں میں سرگرم رہی۔ ان ٹیموں کے پاس کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان، عوامی نیشنل پارٹی، ایم کیو ایم حقیقی اور دیگر جماعتوں کی ذمہ داری ہے۔

ملزم نے ٹیم کو بتایا ہے کہ جب کسی کی ٹارگٹ کلنگ کرنی ہو تو احکامات دیتے وقت کوڈ ورڈز استعمال کیے جاتے ہیں، جیسے فائل خرید لو یا پیمنٹ لے لو جیسے الفاظ شامل ہیں۔

اجمل پہاڑی نے پولیس کو ایم کیو ایم حقیقی کے سربراہ آفاق احمد پر قاتلانہ حملے کی منصوبہ بندی سے آگاہ کیا اس کے علاوہ اقبال رعد ایڈووکیٹ، مسلم لیگ ن کے رہنما بدر اقبال، ایم کیو ایم حقیقی، پیپلز پارٹی، اور اورنگی میں گزشتہ دنوں ضمنی انتخابات کے موقع پر ہلاک ہونے والے بہاری قومی موومنٹ کے سربراہ سمیت دیگر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے کارکنوں اور انڈر ورلڈ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

اجمل پہاڑی نے انیس سو چھیاسی میں ایم کیو ایم میں شمولیت اختیار کی اور علاقائی طور پر پارٹی کے کاموں میں دلچسپی کے ساتھ کام کرتا رہا۔

رپورٹ کے مطابق دس سال بعد یعنی انیس سو چھیانوے میں اجمل پہاڑی بھارت میں تربیت کے لیے گئے جہاں دلّی سے تین چار گھنٹے کی مسافت پر واقع کسی جنگل میں قائم آرمی ٹریننگ سینٹر میں انہیں اسلحہ چلانے کی خصوصی تربیت دی گئی ان کے ساتھ پارٹی کے دیگر کارکن بھی موجود تھے۔

اجمل پہاڑی کے بیان کے مطابق ایک ماہ کی تربیت مکمل ہونے کے بعد سنی نامی شخص ملزم اور دوسرے چار لڑکوں کو لینے آیا اور واپس دلّی والے اسی گھر لے گیا جہاں وہ پہلے رکے تھے اور یہاں وہ آئندہ چھ ماہ تک رہائش پذیر رہے۔

ملزم نے بتایا کہ دلّی میں قیام کے دوران ملزم اور اس کے ساتھیوں کو سنی انقلاب کے موضوع پر کتابیں لا کر دیتا تھا اور سب کی یہی تربیت کی جاتی تھی کہ اگر حقوق نہ ملے تو الطاف حسین کی زیر قیادت کراچی اور سندھ کے بڑے بڑے شہروں کو الگ کر کے علیحدہ ریاست بنائیں گے۔

ملزم اجمل پہاڑی نے بتایا کہ فروری یا مارچ 1997 میں دلّی میں سنی نے ملزم اور ذیشان کو غیر قانونی طور پر پاکستانی بارڈر کراس کر کے پاکستان لے جانے کے لیے بھارتی گائیڈ مہیا کیا جو انہیں دلّی سے بھارتی پنجاب لے گیا اور ایک رات تقریباً نو بجے بذریعہ سوزوکی پِک اپ لاہور پہنچا کر خود واپس چلا گیا جہاں سے ملزم اور ذیشان بذریعہ ٹرین کراچی پہنچ گئے۔

ملزم نے بتایا کہ سنہ انیس سو چھیانوے میں سندھ سیکریٹیریٹ پر راکٹ لانچرز سےحملے کے تقریباً دو ماہ بعد ملزم کو لندن سے ندیم نصرت نے حکم دیا کہ وہ ذیشان پی آئی بی والے کے ہمراہ ایران چلے جائیں اور جانے سے پہلے نائن زیرو گئے جہاں سے انہیں خرچے کے لیے پچاس ہزار روپے فراہم کیے گئے۔

جوائنٹ انٹروگیشن رپورٹ کے مطابق اجمل پہاڑی پر ٹارگٹ کلنگز کے سو واقعات میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

رپورٹ پر ایم کیو ایم کا ردعمل

جوائنٹ انٹروگیشن پرایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن اور سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ سنہ دو ہزار میں جب اجمل پہاڑی کو گرفتار کیا گیا تھا تو اس سے سرکاری ٹارچر سیل میں سو لوگوں کے قتل کا اعتراف کرایا گیا تھا۔

ان کے مطابق ’پاکستان میں تفتیش کے دوران کون کون سے طریقے اختیار کیے جاتے ہیں، کیسے ہاتھی کو ہرن بنا کر پیش کیا جاتا ہے، جس شخص نے جوائنٹ انٹروگیشن رپورٹ پیش کی ہے اگر اس کو دوگھنٹے کے لیے پولیس کے حوالے کیا جائے تو وہ نائن الیون کی ذمہ داری بھی قبول کر لے گا۔‘

اجمل پہاڑی کے بھارت جانے کے بارے میں مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ’ آپریشن کے وقت جان بچانے کے لیے کارکنوں کو دوسرے ممالک جانا پڑا، جسے جہاں سہولت ملی وہ وہاں گیا اور سینکڑوں لوگ انڈیا گئے۔ جان بچانے کے لیے کسی ملک میں پناہ لینے والے پر تربیت کا الزام لگانا سراسر ناانصافی ہے۔‘

اسی بارے میں