’بھتہ خوری کے لیے قانون کیوں نہیں؟‘

فائل فوٹو
Image caption چیف جسٹس افتخار چوہدری نے کہا کہ حکومت قانون سازی کے ذریعے بھتہ خوری کو جرم قرار دے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سندھ حکومت سے سوال کیا ہے کہ انسدادِ بھتہ خوری کے لیے قانون سازی کیوں نہیں کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک قانون سازی نہیں ہوگی یہ سلسلہ کیسے رکے گا؟

منگل کو جیسے ہی سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے آئی جی سندھ واجد درانی کو ہدایت کی کہ پندرہ جولائی سے اس وقت تک گرفتار کیے جانے والے افراد کی تفصیلات عدالت کو فراہم کی جائیں۔

بھتہ خوروں کےخلاف کارروائی کا فیصلہ

’پشت پناہی کرنے والوں کا جاننا چاہتے ہیں‘

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کے وکیل افتخار گیلانی کی جانب سے ٹارگٹ کلنگز میں ملوث ملزم اجمل پہاڑی سے کی گئی جوائنٹ انٹروگیشن کی رپورٹ پیش کی گئی جس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ اجمل پہاڑی کا کیا ہوا۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ فتح ملک نے عدالت کو بتایا کہ وہ جیل میں ہیں اور ان کے خلاف مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔

اس موقعے پر جسٹس غلام ربانی نے ایڈووکیٹ جنرل سے کہا کہ ثبوت موجود ہیں وہ سب کچھ بتا رہا ہے، اس کی جماعت کے بارے میں کیا کارروائی کی گئی ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل نے واضح کیا کہ یہ انٹروگیشن رپورٹ ہے، فوجداری کارروائی نہیں ہے۔ جسٹس ربانی نے انہیں مخاطب ہو کر کہا کہ یہ صرف پولیس کی رپورٹ نہیں ایم آئی اور آئی ایس آئی کی بھی رپورٹ ہے، جسٹس ربانی نے سوال کیا کہ اگر جوائنٹ انٹروگیشن کی رپورٹ پر بھی عمل نہیں کرسکتے تو بناتے کیوں ہیں؟

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بتایا کہ انہوں نے ساری رات جوائنٹ انٹروگیشن رپورٹ پڑھی ہے جو آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کراچی، منی پاکستان اور اقتصادی مرکز ہے۔ ریڑھی والے سے لیکر صنعت کار تک کو تحفظ نہیں ملے گا تو یہ ملک کیسے چلے گاگ بقول ان کے یہ نمبر بنانے کی بات نہیں ہے وہ لوگوں کو پرامن ماحول دینا چاہتے ہیں۔

سپریم کورٹ کی صدر عاصمہ جہانگیر نے اپنے دلائل میں کہا کہ کراچی میں بدامنی اور ہنگامہ آرائی آج کی بات نہیں ہے یہ دہائیوں سے جاری ہے۔ ان کے بقول ایم کیو ایم تخریب کاری کی مشینری ہے۔ بقول عاصمہ جہانگیر ایم کیو ایم کی اگر تاریخ دیکھی جائے تو وہ مسئلہ پیدا کرتی رہی ہے اور گزشتہ دس سالوں میں اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے ایم کیو ایم گڑ بڑ کرتی ہے جس کے بعد دوسری جماعتیں شامل ہوجاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جوائنٹ انٹروگیشن رپورٹ مکمل طور پر سچی نہیں ہوگی مگر اس میں جو بیانات ہیں وہ قابل غور ہیں۔ ایک سیکٹر انچارج کو دوسرے کے بارے میں پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔

آئین میں ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث کسی تنظیم پر پابندی کے حوالے سے موجود شقوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی جماعت پر پابندی ایک بڑی غلطی ہوگی، اس کے سیاسی نتائج نکلیں گے۔

عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ کچھ لوگ فوج بلانے کی بات کر رہے ہیں مگر فوج مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسئلے کا حصہ ہے جس کے آنے سے مسائل اور بڑھ جاتے ہیں۔

انہوں نے پولیس کی اسپیشل برانچ کی رپورٹ پڑھ کر سنائی جس میں بتایا گیا تھا، کہ شہر میں چالیس کے قریب سیاسی جماعتیں بھتہ اور چندہ وصول کرتی ہیں، جس میں متحدہ قومی موومنٹ، سنی تحریک ، پیپلز امن کمیٹی، عوامی نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی، کالعدم سپاھ صحابہ اور دیگر جماعتیں اور گروہ شامل ہیں۔

جس پر چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جب تک صوبائی اسمبلی قانون سازی نہیں کرے گی یہ سلسلہ کیسے رکے گا؟ حکومت قانون سازی کرے اور اسے جرم قرار دے۔

اس موقعے پر چیف جسٹس نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ جب تک بھتہ خوری کے خلاف قانون سازی ہو،گورنر کو کہہ کر آرڈیننس جاری کیا جائے۔

ایڈیشنل آئی جی سعود مرزا نے عدالت کو بتایا کہ بھتہ خوری پر کافی ضابطہ ہوا ہے پولیس مزید کارروائی کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نوے فیصد ٹارگٹ کلرز موبائل ٹیلیفون استعمال کرتے ہیں مگر ان کا سراغ لگانے کے لیے ان کے پاس سہولت دستیاب نہیں ہے۔

بدھ کو سماعت کے موقعے پر انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں جج کی خالی آسامیاں بھی زیر بحث آئیں اور چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ دو روز میں یہ آسامیاں پر کی جائیں۔

چیف جسٹس نے پولیس سے کورنگی میں پولیس بس پر فائرنگ اور اس میں گرفتاریوں کی تفصیلات بھی معلوم کیں۔

اسی بارے میں