’بلوچ مزاحمت کار قوم دھارے میں آنے کو تیار‘

Image caption نواب اکبر بگٹی کے قتل کے بعد سے مزاحمت کاروں کی کارروائیوں میں تیزی آ گئی تھی

پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سابق صدراور سینیٹر نوابزادہ لشکری رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچ مزاحمت کاروں کا ایک بڑا گروپ قومی دھارے میں آنا چاہتا ہے اور وہ جلد وزیراعظم سے اس مسئلے پر تبادلہ خیال کریں گے۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر میر صادق عمرانی نے اس رابطے کا خیرمقدم کیا ہے۔

پیپلزپارٹی بلوچستان کے سابق صدر اور سینیٹ میں پانی وبجلی کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر نوابزادہ میرحاجی لشکری رئیسانی نے منگل کو کوئٹہ میں صحافیوں سے بات چت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچ مزاحمت کاروں کا ایک بڑا گروپ ان سے مسلسل رابطے میں ہے اور وہ قومی دھارے میں آنا چاہتا ہے۔اس سلسلے میں وہ جلد وزیراعظم سید یوسف رضاء گیلانی سے ملاقات کر کے بلوچستان میں قیام امن کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔

دوسری جانب پیپلزپارٹی کے صوبائی قیادت نے بلوچ مزاحمت کاروں کے اس رابطے کا خیرمقدم کیاہے۔

پیپلزپارٹی بلوچستان کے صدر میرصادق عمرانی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت بلوچستان کے مسئلے کا پرامن حل چاہتی ہے۔

میر صادق عمرانی نے مزید کہا کہ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم سید یوسف رضاء گیلانی نے گزشتہ دنوں گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار مگسی اور وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کو مکمل اختیار دیا تھا تاکہ وہ بلوچستان کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے بلوچ مزاحمت کاروں اور ناراض بلوچوں سے فوری رابطے کریں۔

اگرچہ مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے ان رابطوں کا خیرمقدم تو کیا جا رہا ہے لیکن ابھی تک سینیٹر میرحاجی لشکری رئیسانی یہ بتانے سے گریز کر رہے ہیں کہ وہ کونساگروپ ہے اور نہ ہی کسی گروپ نے ابھی تک سینیٹر میر لشکری کے اس دعوے کی تردید کی ہے۔

یاد رہے کہ بلوچستان میں گزشتہ کئی برس سے شورش کا سلسلہ جاری ہے اور بلوچ علیحدگی پسند قوتوں کی جانب سے جاری مسلح مزاحمت کے دوران ٹارگٹ کلنگ اور سیکورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ ہوا۔ سابق فوجی صدرجنرل پرویزمشرف کےدورحکومت میں بلوچستان میں ہونے والے آپریشن کے دوران مبینہ طور پر ہزاروں لوگ لاپتہ ہوئے تھے جن میں سے اب تک دو سو سے زائد لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں بھی مل چکی ہیں۔

اسی بارے میں