لاہور: ڈینگی وائرس، مریضوں میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے ایک بستر پر دو دو مریضوں کو لٹایا جا رہا ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ڈینگی وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور صوبے کے وزیر اعلیٰ نے یہ اعتراف کیا ہے کہ ڈینگی وائرس کے سامنے حکومت کمروز لگ رہی ہے۔

ادھر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ڈینگی وائرس کے خاتمے کے لیے کیے گئے اقدامات پر صوبائی محکمۂ صحت سے جواب طلب کر لیا ہے۔

محکمۂ صحت پنجاب کے مطابق صوبے بھر میں مچھر کے ڈینگی وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد ایک ہزار نو سو اٹھاون ہوگئی ہے اور گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ڈینگی وائرس سے متاثر ہونے والے ایک سو بیالیس نئے کیس سامنے آئے ہیں۔

نامہ نگار عبادالحق کے مطابق صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ صرف صوبائی دارالحکومت لاہور میں ڈینگی سے متاثر ہونے والے مریضوں کی تعداد ایک ہزار سات سو بہّتر ہے اور اس طرح نوے فیصد مریضوں کا تعلق لاہور شہر سے ہے۔

پنجاب کے شہر فیصل آباد میں آٹھ جبکہ ملتان اور بہاولپور میں ایک ایک مریض ڈینگی وائرس کا شکار ہوا ہے۔

سرکاری ہسپتالوں میں ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کے الگ وارڈز بنائے گئے ہیں لیکن مریضوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے ایک بستر پر دو دو مریضوں کو لٹایا جا رہا ہے۔

ادھر وزیراعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت اجلاس میں ڈینگی وائرس سے پیدا ہونے والی صورت حال کا جائزہ لیا گیا اور وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ارکان اسمبلی ڈینگی مچھر کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی نگرانی کریں گے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اس بیماری پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ جنگی بنیادوں پر ڈینگی وائرس کا خاتمہ کیا جائےگا۔

شہباز شریف کے بقول سچی بات یہ ہے کہ اس وقت مچھر طاقتور اور حکومت کمزور ہے۔

دوسری طرف ڈینگی وائرس سے بچاؤ کے لیے مچھر مار سپرے کی فروخت میں اضافے سے اس کی قیمت بھی بڑھ گئی ہے۔

دریں اثناء چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس اعجاز احمد چودھری نے ڈینگی مچھر کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات نہ کرنے کے بارے میں مقامی وکیل کی درخواست پر سیکریٹری صحت پنجاب سے جواب طلب کر لیا ہے۔

اسی بارے میں