سیلاب:اقوام متحدہ سے مدد کی اپیل

سیلاب زدگان
Image caption اس سال بارشوں اور سیلاب سے ساڑھے تیرہ ہزار گاؤں متاثر ہوئے ہیں

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے سیلاب اور بارش کے متاثرین کی مدد کی اپیل کی ہے۔

صدارتی ترجمان کے مطابق صدر زرداری نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون سے ٹیلیفون پر بات کی ہے اور انہیں بارشوں سے ہونے والی تباہ کاریوں اور متاثرین کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے ذریعے بین الاقوامی مدد کی اپیل کی۔

بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا ہے کہ دوسری جانب صدر زرداری نے جمعرات کو سیلاب زدہ علاقوں کا فضائی دورہ کیا اور بینطیرآباد میں انہوں نے بارش کے پانی میں اتر کر متاثرین سے ملاقات کی۔ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق انہوں نے متاثرین کو یقین دہانی کرائی کہ مشکل کی اس گھڑی میں حکومت انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی۔

ضلع بینظیرآباد کے شہر نوابشاہ میں صدر زرداری کو حکام کی جانب سے بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ سیلاب سے تقریباً پچاس لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں، چالیس لاکھ ایکڑ زمین زیر آب آچکی ہے، جس میں سے سترہ لاکھ ایکڑ پر فصلیں تیار کھڑی تھیں۔

اس موقع پر صدر زرداری نے کہا کہ یہ وقت سیاست کرنے کا نہیں بلکہ سیلاب متاثرین تک پہنچ کر ان کی مدد کرنے کا ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں اور اداروں سے اپیل کی وہ اشتراک عمل کے ساتھ آگے بڑھیں اور لوگوں کی مدد کریں۔

دوسری جانب صوبائی ڈزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشوں سے اکیس اضلاع متاثر ہیں، جن میں سے بینظیرآباد، سانگھڑ، عمرکوٹ، میرپورخاص اور بدین شدید متاثر ہو رہےہیں جہاں ابھی بھی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ جس کے باعث ہزاروں کچے مکانات منہدم ہوچکے ہیں اور کئی سڑکیں زیر آب آچکی ہیں۔

عمرکوٹ، کنری، سامارو، میرپورخاص، جھڈو، نئوں کوٹ، سانگھڑ، ، کھپرو، کلوئی اور ٹنڈو محمد خان شہر میں کئی فٹ پانی کھڑا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بارشوں کے دوران 169 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

دریں اثنا مسلسل بارشوں کے باعث ندیوں، نہروں اور سیم نالوں میں تغیانی آگئی ہے۔ سانگھڑ، نئوں کوٹ اور شاہ پور چاکر میں نہروں کو شگاف پڑے ہیں، جبکہ بلوچستان کے پہاڑی علاقوں سے آنے والے پانی کے باعث دادو اور جامشورو اضلاع میں ندیوں میں پانی کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔

ادھر بینظرآباد، سانگھڑ اور میرپورخاص اضلاع سے بارش کے پانی کی آمد کی وجہ سے بدین میں ایل بی او ڈی سیم نالے میں پانی گنجائش سے کئی گنا زیادہ موجود ہے۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کسی وقت بھی شگاف پڑ سکتا ہے، مسلسل بارشوں کے باعث زمین دلدلی ہوگئی ہے جس کے باعث وہ بندوں کو مضبوط کرنے نہیں جاسک رہے ہیں گاڑیاں زمین میں دھنس جانے کا خدشہ ہے۔

اسی بارے میں