’پولیو قطروں سے انکار پر کارروائی‘

پولیو سے بچنے کے قطرے پلانے کی مہم(فائل فوٹو) تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جو والدین پولیو سے بچنے کے قطرے اپنے بچوں کو پلانے سے انکار کریں، ان کے خلاف مقدمات قائم کیے جا سکیں گے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں حکام کا کہنا ہے کہ پولیو مہم کے دوران بچوں کو ویکسین کے قطرے پلانے سے انکار کرنے والے والدین کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں ان کے خلاف باقاعدہ مقدمات درج کئے جائیں گے۔

یہ فیصلہ بدھ کو پشاور میں ضلعی رابطہ افسر سراج احمد خان کی صدارت میں ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا جس میں محکمہ صحت اور مقامی انتظامیہ کے اعلی اہلکاروں نے شرکت کی۔

محکمہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر شریف احمد خان نے پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ پاکستان میں پولیو کے خلاف مہم سن انیس سو چورانوے سے چل رہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے تقربباً تمام ممالک میں اس بیماری پر قابو پالیا گیا ہے لیکن پاکستان ان چار بدقسمت ممالک میں شامل ہے جہاں ابھی تک یہ موذی مرض موجود ہے۔

ان کے مطابق رواں سال کے دوران ضلع پشاور میں صرف پولیو کے چار کیسز کی تصدیق ہوئی ہے اور ان میں تین کسیز ایسے تھے جس میں والدین نے بچوں کو قطرے پلانے سے انکار کردیا تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پولیو کا شکار ہونے الے اکثر بچوں کے والدین افغان مہاجر ہیں جو پشاور شہر کے حدود میں رہائش پذیر ہیں۔

ڈاکٹر شریف کے مطابق ایسے والدین کو پہلے سمجھایا جائے گا لیکن اگر وہ پھر بھی قطرے پلانے سے انکار کریں گے تو پھر ان کے خلاف مجبوراً کارروائی کی جائے گی کیونکہ یہ بیماری متاثرہ افراد سے دیگر بچوں میں ہورہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انکار کرنے والے پاکستانی والدین کے خلاف تین اور سولہ ایم پی او جبکہ افغان مہاجرین کے خلاف سولہ فارون ایکٹ کے تحت کارروائی کر کے انھیں ملک بدر کردیا جائے گا۔

خیال رہے کہ پشاور میں انیس ستمبر سے تین روزہ پولیو مہم شروع ہورہی ہے۔ رواں سال کے دوران صوبہ خیبر پختون خوا میں مجموعی طورپر پولیو کے آٹھ کیسز سامنے آئے ہیں اور جن میں چار بچے صرف ضلع پشاور میں شکار بنے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ جو والدین اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کر رہے ہیں ان کا خیال ہے کہ شاہد اس سے ان بچوں میں بچے پیدا کرنے کی صلاحیت ختم ہوسکتی ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ یہ ایک بڑی سازش کا حصہ ہے۔

اسی بارے میں