’حکومت لاپتہ افراد کی بازیابی میں سنجیدہ نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بلوچستان میں لاپتہ افراد کا معاملہ بہت سنجیدہ نوعیت کا ہے اور وہاں اکثر مسخ شدہ لاشیں بھی ملتی ہیں

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بادی النظر میں حکومت لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے سنجیدہ کوششیں کرتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ان افراد کی بازیابی کے لیے بنائے جانے والے کمیشن کا سربراہ عدالتی احکامات کے باوجود تعینات نہیں کیا جاسکا۔

جسٹس ریٹائرڈ فضل الرحمن وزارت داخلہ میں لاپتہ افراد سے متعلق بنائے جانے والے کمیشن کے سربراہ تھے تاہم الیکشن کمیشن کا رکن منتخب ہونے کے بعد اُنہوں نے اس کمیشن کی سربراہی سے استعفی دے دیا تھا۔

اسلام آباد میں بی بی سی اردو سروس کے نمائندے شہزاد ملک کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو اس کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کے لیے تین ہفتوں کی مہلت دی تھی جو ختم ہوگئی ہے۔

جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے لاپتہ افراد سے متعلق مختلف درخواستوں کی سماعت کی۔ بینچ کے سربراہ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے کے آغا سے استفسار کیا کہ عدالتی احکامات کے باوجود ابھی تک اس کمیشن کا سربراہ کیوں تعینات نہیں کیا گیا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ رحمان ملک کراچی میں امن وامان کی صورت حال کی نگرانی کے لیے اُس شہر میں موجود ہیں جس کی وجہ سے اُن سے اس معاملے پر بات چیت نہیں ہوسکی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اگر کراچی میں لوگوں کی جان ومال کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے تو کیا لاپتہ افراد کی بازیابی بھی حکومت وقت کی ذمہ داری نہیں جو گُزشتہ کئی سالوں سے اپنے پیاروں کی رہ تک رہے ہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے بنائے جانے والہ کمیشن اپنے چیئرمین کے بغیر بھی کام کرہا ہے جس پر بینچ میں شامل جسٹس طارق پرویز نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سابق چیئرمین کے مستعفی ہونے کے بعد سے اب تک کوئی ایک بھی لاپتہ شخص بازیاب نہیں ہوسکا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اب تک جتنے افراد بھی بازیاب ہوئے ہیں وہ عدالتی مداخلت پر ہوئے ہیں حالانکہ حکومت وقت کو اپنے تئیں بھی اقدامات کرنے چاہیے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ حکومت کو دو ہفتوں کی مزید مہلت دی جائے تاکہ اس دوران لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کمیشن کے سربراہ کا تقرر ہوسکے۔

ڈیفنس آف ہومین رائٹس کی چیئرپرسن آمنہ مسعود جنجوعہ نے عدالت کو بتایا کہ اگر اُن کی اور اُن کے بچوں کی حفاظت کی ضمانت دی جائے تو وہ خفیہ ایجنسیوں کے اُن اہلکاروں کے نام بتاسکتی ہیں جنہوں نے اُن کے شوہر مسعود جنجوعہ اور دیگر افراد کو اغوا کیا ہے۔ عدالت نے مذکورہ خاتون سے کہا کہ وہ جو کچھ بھی کہنا چاہتی ہیں عدالت کو تحریری طور پر آگاہ کریں۔

کے کے آغا کا کہنا تھا کہ ایجنسیوں کی تحویل میں جو افراد ہیں اُن کے بارے میں تفصلات ابھی تک موصول نہیں ہوئیں۔ عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو اس ضمن میں جامع تفصیلات پیش کرنے کا حکم دیا۔ ان درخواستوں کی سماعت چھبیس ستمبر تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

اسی بارے میں