دھمکیوں کے بعد پشاور میں ہائی الرٹ

 اپریل 2010: پشاور میں دہشت گرد حملہ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پشاور پولیس نے دہشت گرد حملوں کے خطرے کے یش نظر سکیورٹی بڑھا دی ہے (فائل فوٹ)

صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں حکام کو اطلاع ملی ہے کہ شدت پسند کسی بھی وقت شہر میں کوئی بڑی دہشت گرد کارروائی کر سکتے ہیں۔ پولیس نے ممکنہ حملے کے پیش نظر حفاظتی انتظامات بڑھا دیے ہیں جبکہ پشاور کے علاقے صدر میں دو روز کے لیے دکانیں اور کاروباری مراکز بند کر دیے گئے ہیں۔

پشاور کے خیبر روڈ پر پولیس ناکے بڑھا دیے گئے ہیں اور دیگر مقامات پر بھی گاڑیوں کی سخت چیکنگ کی جا رہی ہے۔ خیبر روڈ پر کور کمانڈر کی رہائش گاہ، پرل کانٹیننٹل ہوٹل اور اس سے ملحقہ روڈ پر وزیر اعلی ہاؤس واقع ہے۔

پولیس کے مطابق خیبر روڈ پر بڑی گاڑیوں کا داخلہ بند کر کے ٹریفک کو صدر کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔

پشاور کے پولیس افسر امتیاز الطاف نے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا کہ انھیں دہشت گردی کی کسی ممکنہ کارروائی کی خفیہ اطلاع ملی ہے جس کے بعد سیکیورٹی کے انتظامات بڑھا دیے گئے ہیں لیکن یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ کارروائی کس شکل میں اور کہاں پر ہو سکتی ہے۔

سی سی پی او نے بتایا کہ یہ اقدامات شہریوں کی حفاظت کے لیے کیے گئے ہیں اور خیبر روڈ پر صرف ایک ناکہ ہے جہاں گاڑی کو آہستہ کرکے گزارنا ہوتا ہے، اس کے علاوہ لوگوں کے لیے مشکل پیدا نہیں کی گئی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ یہ دھمکیاں کون دیتا ہے اور کہاں سے آتی ہیں اس لیے وہ اس کا جواب نہیں دیں گے۔ انھوں نے اکثر سوالوں کے جواب یہ کہہ کر نہیں دیے کہ یہ سب آپ کو معلوم ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جہاں جہاں ضرورت تھی وہاں ناکے لگائے گئے ہیں اور ان ناکوں پر پولیس کی نفری بڑھائی گئی ہے۔

مرکزی انجمن تاجران خیبر پختونخواہ کے صدر شرافت علی مبارک نے بی بی سی کو بتایا کہ اس طرح کی دھمکیوں اور پھر حفاظتی انظامات سے ان کا کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سنہری مسجد روڈ پر فرنٹیئر کانسٹبلری نے دل جان پلازہ اور اس سے ملحقہ گیس سٹیشن دو روز کے لیے بند کرا دیا ہے۔ دل جان پلازہ میں گاڑیوں کے پرزوں کی بڑی دکانیں ہیں۔

شرافت علی مبارک کے مطابق دھمکیوں کے بعد لوگ گھروں سے باہر نہیں نکل رہے اور ماضی میں ایسا دیکھا گیا ہے کہ کافی عرصہ تک یہی صورتحال رہی ہے جس سے کاروبار پر بُرا اثر پڑا ہے۔

اسی بارے میں