خودکش حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد اٹھائیس

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دھماکے کے بعد ایک سو ساٹھ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بدھ کوہونے والے دوخودکش حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اٹھائیس تک پہنچ گئی جبکہ ساٹھ سے زائد زخمیوں میں بیس کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

کوئٹہ: فرنٹیئر کور کے ڈی آئی جی پر حملہ، 26 افراد ہلاک

کوئٹہ پولیس کے مطابق خودکش حملوں کے بعد سیکورٹی فورسز نے کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے اور اب تک ایک سوساٹھ سے زیادہ مشکوک افراد کو حراست میں لے کر ان سے تفتیش کی جارہی ہے۔

دوسری جانب وزیراعلٰی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نےخودکش حملوں کے بعد ایک اعلی سطح کا اجلاس طلب کیا جس میں صوبے میں امن وامان کی صورتحال کا جائزہ لیاگیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عوام کی جان اور مال کے تحفظ کے لیے ہرممکن اقدامات کریں۔

وزیراعلی نے مزید کہا ہے کہ اگرچہ خودکش حملوں کی روک تھام ممکن نہیں تاہم بہترمنصوبہ بندی کے ذریعے ایسے واقعات میں کمی لائی جاسکتی ہے۔

اُدھر گورنربلوچستان نواب ذوالفقارمگسی نے صوبے میں امن وامان کی ابتر صورتحال پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کل کوئٹہ میں ہونے والے خودکش حملوں کے بعد جائے وقوع کے دورے کے دوران کہا کہ بلوچستان میں حکومتی رٹ نظرنہیں آتی ہے اور حکومتی رٹ قائم کرناصوبائی منتخب حکومت کی ذمہ داری ہے۔

بقول گورنر بلوچستان، کوئٹہ شہر کے اتنے حساس علاقے میں اگرایک اعلٰی افسرکے گھر کو دہشت گرد نشانہ بناسکتے ہیں توعام لوگوں کا توکوئی پرسان حال نہیں ہے۔

یاد رہے کہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں کل کے خودکش حملوں میں ڈی آئی جی فرنٹیئر کور بریگیڈیر فرخ شہزاد کی اہلیہ اور ایف سی کا ایک کرنل خالد مسعو بھی ہلاک ہوئے تھے۔

بعد میں ان حملوں کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے قبول کی تھی ہے۔

اسی بارے میں