آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 10 ستمبر 2011 ,‭ 01:34 GMT 06:34 PST

’حکومتِ پاکستان سکیورٹی مہیا نہیں کرتی‘

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے تناظر میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی افغانستان میں آمد کے بعد جہاں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا وہیں یہاں روز گار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوئے۔

ان میں سے ایک پاکستان سے آئل ٹینکرز کے ذریعے افغانستان میں تعینات امریکی اور مغربی فوج کو تیل کی سپلائی تھی تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان کے صوبہ خیبر پختنونخوا اور بلوچستان میں آئل ٹینکرز پر حملوں میں اضافے سے ٹینکرز مالکان میں خاصی تشویش پائی جاتی ہے اور ہزاروں لوگوں کا روز گار خطرے میں نظر آتا ہے۔

آئل ٹینکرز کے مالکان کی تنیظیم آل پاکستان آئل ٹینکرز اونرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد یوسف شاہ وانی کا کہنا ہے ’حکومتِ پاکستان ہمیں کہتی کہ تیل سپلائی کرو تو اس صورت میں یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہماری سکیورٹی کا بندوبست کرے۔ لیکن اس کی جانب سے کوئی تحفظ نہیں ہے اور نہ ہی ہمارے مسئلے پر کوئی دھیان دے رہی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ تقریباً سات سال پہلے جب تیل کی سپلائی شروع کی تھی تو اس وقت آئل سپلائی کو سرحد تک پہنچانے کے لیے سکیورٹی کے اچھے خاصے انتظامات کیے جاتے تھے۔ ’لیکن گزشتہ دو سال سے یہ سلسلہ تقریباً بند ہے اور اس عرصے کے دوران سات سے آٹھ سو کے درمیان آئل ٹینکرز کو نذر آتش کیا جا چکا اور ان واقعات میں تقریباً سوا سو کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔‘

اندرون پاکستان تیل سپلائی کا تین لاکھ روپے معاوضہ ملتا تھا لیکن افغانستان تیل سپلائی سے معاوضہ بہتر ہو کر کم از کم چھ سے سات لاکھ ہو گیا۔ اور ڈرائیوروں کے معاوضے میں بہتری آئی، جس کی وجہ سے لوگوں نے زمین بیچ کر، قرض لے کر یا قسطوں پر آئل ٹینکرز خریدے تھے۔ لیکن اب موجودہ صورتحال میں تمام ٹرانسپوٹرز تباہ ہو کر رہ جائیں گے۔

محمد یوسف شاہ وانی

’پہلے افغانستان میں سکیورٹی کے حالات خراب تھے اور آئل ٹینکرز پر بہت زیادہ حملے ہوتے تھے لیکن وہاں پر اب صورتحال بہتر ہے اور آئل ٹینکرز کو سکیورٹی کے ساتھ ایک قافلے کی صورت میں لے جایا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں ایسا کچھ نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت چاہے تو سپلائی کو پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کی مدد سے ایک قافلے شکل میں سرحد تک صحیح سلامت پہنچایا جا سکتا ہے۔

آئل ٹینکرز پر حملوں میں ملوث افراد کے بارے میں کیے جانے والے سوال کے جواب میں محمد یوسف شاہ وانی نے متحاط انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا ’نیٹو سپلائی پر حملوں میں طالبان ملوث نہیں ہیں بلکہ لوٹ مار میں پولیس اور حکومت کے لوگوں کا ہاتھ ہے۔‘

واضح رہے کہ طالبان افغانستان میں تعینات غیر ملکی فوج کو تیل سپلائی کرنے والے آئل ٹینکرز پر حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکے ہیں۔

آئل ٹینکرز کو نقصان پہنچنے اور عملے کے زخمی یا ہلاک ہونے کی صورت میں معاوضے کے سوال پر محمد یوسف شاہ وانی نے کہا ’پاک، افغان حکومت اور مقامی کنٹریکٹرز کے درمیان جو معاہدہ ہوا ہے اس سے ہمیں لاعلم رکھا گیا ہے۔ اور اسی وجہ سے کسی حادثے کی صورت میں ہمیں معاوضہ نہ ہونے کے برابر ملتا ہے۔‘

محمد یوسف شاہ وانی کے بقول ابتداء میں جب تیل سپلائی شروع کی تھی تو اس وقت ایک ہزار کے قریب آئل ٹینکرز تھے لیکن وقت کے ساتھ رسد میں اضافے کے وجہ سے اس وقت تقریباً آٹھ ہزار کے قریب آئل ٹینکرز کے ذریعے سپلائی کی جا رہی ہے۔

’اندرون پاکستان تیل سپلائی کا تین لاکھ روپے معاوضہ ملتا تھا لیکن افغانستان تیل سپلائی سے معاوضہ بہتر ہو کر کم از کم چھ سے سات لاکھ ہو گیا۔ اور ڈرائیوروں کے معاوضے میں بہتری آئی، جس کی وجہ سے لوگوں نے زمین بیچ کر، قرض لے کر یا قسطوں پر آئل ٹینکرز خریدے تھے۔ لیکن اب موجودہ صورتحال میں تمام ٹرانسپوٹرز تباہ ہو کر رہ جائیں گے۔‘

خیبر ایجنسی میں چند نامعلوم مسلح افراد ایک پک اپ گاڑی میں بیٹھ کر آئے، اور آئل ٹینکرز پر فائرنگ شروع کر دی اور لوٹ مار کے بعد چلے گئے۔ ان افراد کے بارے میں ہم کیا کہہ سکتے ہیں کہ وہ طالبان تھے کہ حکومت کے لوگ یا کوئی اور۔

اقبال شاہ

سکیورٹی خدشات کے سبب افغان سپلائی پر معمور ڈرائیوروں اور ان کا معاون عملہ اس کام سے کنارہ کشی اختیار کرنے پر مجبور نظر آتا ہے۔

ان میں سے ایک اقبال شاہ ہیں جو افغانستان میں ایک سو سے زیادہ بار تیل سپلائی کے لیے جا چکے ہیں۔ تاہم انہوں نے چند دن پہلے افغانستان سے واپسی کے بعد اس کام کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اقبال شاہ کا کہنا ہے ’ایک طرف تو پولیس اہلکاروں کی جانب سے تنگ کرنے اور رشوت لینے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے تو دوسری طرف ٹینکرز پر حملوں میں اضافے نے مسائل پیدا کیے ہیں۔‘

آئل ٹینکرز پر حملہ کرنے والوں کے بارے میں اقبال شاہ کا کہنا تھا ’خیبر ایجنسی میں چند نامعلوم مسلح افراد ایک پک اپ گاڑی میں بیٹھ کر آئے، اور آئل ٹینکرز پر فائرنگ شروع کر دی اور لوٹ مار کے بعد چلے گئے۔ ان افراد کے بارے میں ہم کیا کہہ سکتے ہیں کہ وہ طالبان تھے کہ حکومت کے لوگ یا کوئی اور۔‘

انھوں نے کہا کہ افغانستان سپلائی سے پندرہ ہزار تنخواہ کے علاوہ بیس سے پچیس ہزار روپے تک ایک سپلائی پہنچانے کے ملتے تھے جس سے مہنگائی کے اس دور میں اچھا گزارا ہو جاتا تھا لیکن اب اس سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔

آئل ٹینکرز مالکان اور ڈرائیورز کے مطابق ہزاروں لوگوں کے روزگار اور کروڑوں روپے کے سرمایہ کو بچانے کے لیے سکیورٹی اور انتظامی مسائل کو حل کرنے کی طرف توجہ دی جائے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔