’شدت پسندوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وادی نیلم میں ایک ہفتے میں شدت پسندی کے خلاف یہ دوسرا مظاہرہ تھا

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی وادی نیلم میں درجنوں خواتین نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وادی میں مبینہ طور پر سرگرم شدت پسندوں کی سرگرمیاں روکی جائیں اور ان کو علاقے سے باہر نکالا جائے۔

پاکستان کے زیر انتظام کمشیر کے وزیراعظم وادی میں شدت پسندوں کی موجودگی کی تردید کر چکے ہیں۔

اسلام آباد سے نامہ نگار ذوالفقار علی کے مطابق یہ احتجاج ایک ایسے وقت پر کیا جا رہا ہے جب وادی نیلم میں لائن آف کنٹرول پر ہندوستان اور پاکستان کی فوجوں کے درمیان حالیہ فائرنگ کے تبادلے کے واقعات میں چار پاکستانی فوجی سمیت پانچ افراد ہلاک جبکہ ایک ہندوستانی فوجی زخمی ہوگیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ وادی نیلم میں شدت پسندوں کی مبینہ موجودگی اور ان کی سرگرمیوں کے خلاف خواتین نےاحتجاجی مظاہرہ اٹھمقام قصبے میں کیا۔

مظاہرین کا دعویٰ تھا کہ’حالیہ ہفتوں میں وادی نیلم میں مبینہ طور پر شدت پسندوں کی نقل و حرکت بڑھ گئی ہے اور وہ وادی کشمیر میں داخل ہو رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے انھیں خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر ہندوستان اور پاکستان کی فوجوں کے درمیان گذشتہ آٹھ سال سے قائم فائر بندی خطرے میں پڑ سکتی ہے اور گولہ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔

مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ ’لائن آف کنٹرول پر امن برقرار رکھنے کی خاطر وادی نیلم میں شدت پسندوں کی مبینہ سرگرمیوں پر روک لگائی جائے، انھیں وادی کشمیر میں ان کے بقول دراندازی سے باز رکھا جائے، ان کی وادی نیلم میں داخلے پر پابندی لگائی جائے اور پہلے سے وادی نیلم میں مبینہ طور پر موجود شدت پسندوں کو باہر نکالا جائے۔‘

اس احتجاجی مظاہرے میں شریک چاند بی بی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سخت تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ’ہمیں خطرہ ہے کیونکہ شدت پسند (لائن آف کنٹرول کے) پار جاتے ہیں اور وہ بھارتی فوج کے خلاف کارروائی کرتے ہیں اور پھر بھارتی فوجی ہم پر فائرنگ کرتے ہیں۔‘

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ احتجاج کرنے والی خواتین نے اٹھمقام سے چار کلومیڑ کے فاصلے پر واقع سالخلا تک پیدل مارچ کیا اور پاکستانی فوجی حکام کو اپنی تشویش سے آگاہ کرنے کے لیے وہاں قائم فوجی کیمپ تک جانا چاہتی تھیں لیکن مقامی انتظامیہ نے انھیں باہر ہی روک لیا جہاں پاکستانی فوجی حکام نے مظاہرین سے ملاقات کی۔

اس مظاہرے میں شریک بدل جان نے کہا کہ انھوں نے( فوجی حکام نے) ہمیں کہا کہ آپ کے احتجاج کو اعلیٰ حکام تک پہنچا دیا گیا ہے اور شدت پسند دراندازی نہیں کرتے اور نہ کریں گے اور نہ ہی (لائن آف کنٹرول پر) فائرنگ ہوگی۔

انھوں نے کہا کہ فوج کی طرف سے اس یقین دہانی کے بعد ہم نے اپنا احتجاج ختم کیا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم چوہدری عبدالمجیدنے کچھ دن پہلے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں شدت پسندوں کی موجودگی اور ان کی طرف سے وادی کشمیر میں دراندازی کی تردید کی تھی۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ لائن آف کنڑول پر سنہ دو ہزار تین میں فائر بندی کے باعث ان کی زندگی آہستہ آہستہ معمول پر آگئی ہے اور اب وہ اس کے متحمل نہیں ہو سکتے کہ لائن آف کنٹرول پر دوبارہ گولہ باری شروع ہو۔

انہوں نے کہا کہ ہم صرف امن چاہتے ہیں تاکہ ہم سکون سے اپنی زندگی گزار سکیں۔

وادی نیلم میں شدت پسندوں کی مبینہ سرگرمیوں کے خلاف اور امن کے حق میں گذشتہ آٹھ روز کے دوران یہ دوسرا مظاہرہ تھا۔

اس سے پہلے گذشتہ ہفتے سینکڑوں لوگوں نے اٹھمقام میں ہی شدت پسندوں کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔

وادی نیلم میں لوگوں کی تشویش بلاوجہ نہیں ہے۔ ماضی میں بھی یہ علاقہ نہ صرف شدت پسندوں کی سرگرمیوں کا اہم مرکز رہا ہے بلکہ لائن آف کنٹرول پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دو ہزار تین میں فائر بندی کے معاہدے سے پہلے تک برسوں سے جاری رہنے والی گولہ باری کے باعث بھی یہ خط سب سے زیادہ متاثر ہوا تھا۔

اس گولہ باری کے نتیجے میں وادی نیلم میں سینکڑوں لوگ ہلاک و زخمی ہوئے، املاک کو نقصان پہنچا، روز گار تباہ ہو کر رہ گیا تھا اور بچوں کی تعلیم بری طرح متاثر ہوگئی تھی۔

فائر بندی کے معاہدے کے باوجود لائن آف کنٹرول پر دونوں ممالک کی فوجوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے کئی واقعات پیش آئے ہیں لیکن تازہ واقعات فائر بندی کے اس معاہدے کے بعد مہلک ترین ہیں۔

ہندوستان اور پاکستان دونوں ہی ایک دوسرے پر فائر بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی اور فائرنگ میں پہل کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔

ہندوستان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی فوج شدت پسندوں کو وادی میں داخل کرانے کے لیے فائرنگ کرتی ہے پاکستان کے فوجی حکام اس کی تردید کرتے ہیں اور ہندوستان پر بلا اشتعال فائرنگ کا الزام لگاتے ہیں۔

اسی بارے میں