’پاکستان کی تقسیم میں رکاوٹ ہوں‘

فائل فوٹو، الطاف حسین
Image caption پہلے کبھی ڈاکٹر مرزا کے بیان کا جواب دیا ہے اور نہ اب دیں گے: الطاف حسین

متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے کہا ہے کہ ان کی جان کو خطرہ لاحق ہے، انہیں پاکستان کی تقسیم کی راہ میں رکاوٹ سمجھا جارہا ہے اور وہ ایم کیو ایم کے کارکنوں کو رضا کارانہ طور پر پاکستان فوج کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہیں۔

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق لندن سے ایک طویل ویڈیو کانفرنس کے ذریعے صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مختلف اخباری رپورٹس، غیر ملکی سکالرز کی تحقیقی رپورٹس، کتابوں اور نقشوں کا حوالہ دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا آدھا حصہ افغانستان میں شامل کرنے اور آدھے کو آزاد بلوچستان ریاست بنانے کی بین الاقوامی سازش تیار کی گئی اور انہیں اس سازش کی کامیابی میں رکاوٹ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ایم کیو ایم کراچی کی نمائندہ جماعت ہے۔

اس سازش میں ملوث قوتوں کا نام ظاہر نہ کرنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم بھی ان قوتوں سے ڈرتی ہے جن سے پوری دنیا سے ڈرتی ہے، اگر فوج، آئی ایس آئی اور ایم کیو ایم مل جائیں تو کوئی سپر طاقت نہیں، باقی ایم کیو ایم اکیلے کچھ نہیں کرسکتی ۔

الطاف حسین کا کہنا تھا کہ انہیں یہ پتہ نہیں ہے کہ وہ دوبارہ بات کرسکیں گے یا نہیں مگر آج وہ ثبوت اور شواہد کے ساتھ کھل بات کریں گے جس کی جرآت اور ہمت کوئی نہیں کرتا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ جھوٹ، فریب اور دھوکے پر مبنی ہے، ان کی نسل کو صحیح تاریخ بھی نہیں پڑھائی گئی۔

الطاف حسین کے مطابق محمد علی جناح ایک لبرل، سیکیولر روشن خیال سوچ رکھنے والے ایماندار فرض شناس انسان تھے، انہوں نے کبھی پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ کا نعرہ نہیں لگایا تھا۔

سابق صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی جانب سے کراچی کی علیحدگی کی سازش کا ساتھ دینے کے الزام کا جواب دینے سے انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ انہوں نے پہلے کبھی ڈاکٹر مرزا کے بیان کا جواب دیا ہے اور نہ اب دیں گے۔

کراچی میں حالیہ ہلاکتوں کا ذکر کرتے ہوئے الطاف حسین کا کہنا تھا کہ اگر وہ اپنی جماعت کے قائد نہیں ہوتے تو پاکستان پہنچ کر کسی کی جان لے لیتے یا جان دے دیتے۔

انہوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو مخاطب ہو کر کہا کہ انہوں نے کئی فیصلے دیے مگر ان پر عمل نہیں ہوا۔’ہم بے یارو مددگار ہیں ہمارے خلاف فیصلہ دیں تو ہوسکتا ہے فوری عمل ہوجائے۔‘

کراچی میں امن و امان کے بارے میں سماعت کرنے والی سپریم کورٹ کے بینچ کے فیصلے کو قبول کرنے کے بارے میں الطاف حسین کا کہنا تھا کہ فیصلہ آنے کے بعد ہی فیصلہ کریں گے۔

’ کروڑوں مہاجروں نے ہجرت کی ہے کہ مجھے پتہ نہیں ہے کہ اس بینچ کے کتنے لوگ نے ہجرت کا مزہ چکھا ہے، جو بھی فیصلہ آئے ایک قوت خدا کی ہے دوسری عوام ہے جو بہترین جج ہیں۔‘

تین گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی اس پریس کانفرنس میں انہوں نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے مخاطب ہو کر کہا کہ انہوں نے بارہ مئی کو ان کے خلاف نہیں عدلیہ کی آزادی کے لیے ریلی نکالی تھی۔ الطاف حسین نے جماعت اسلامی اور عوامی نیشنل پارٹی کی رہنماؤں پر اس روز پرتشدد واقعات میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ وہ پشتونوں کے کبھی مخالف نہیں رہے، خان غفار خان اور ولی خان کی زندگی جدوجہد میں گذر گئی مگر موجود قیادت پشتونوں کو گمراہ کر رہی ہے۔

ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تحقیقات کے حوالے سے ان کا کہنا تھاکہ وہ سکارٹ لینڈ یارڈ سے مکمل تعاون کر رہے ہیں، جو ان کے پاس معلومات ہے اس سے انہیں آگاہ کیا۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ جان کو خطرے کے باعث انہوں نے پاکستان کو چھوڑا تھا، اب جب لندن میں بھی وہ خطرہ محسوس کر رہے ہیں تو کیا وہ واپس پاکستان آ سکتے ہیں، تو الطاف حسین کا کہنا تھا کہ یہاں قانون ہے، عدالتیں ہیں، لاقانونیت نہیں ہے۔

اس سے قبل انہوں نے رابطہ کمیٹی کے اراکان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیوایم کوختم کرنے کے لیے بین الاقوامی قوتیں انہیں قتل کرنے کی سازشیں کر رہی ہیں، وہ شہادت قبول کر لیں گے مگر مقصد، نظریے اور قوم کا سودا ہرگز نہیں کریں گے۔

انہوں نے اراکین رابطہ کمیٹی سے کہا کہ اگر بین الاقوامی سازش کے تحت وہ قتل کر دیے جائیں تو تحریک کے ذمہ داران و کارکن ان کی تعلیم کے مطابق اپنا لائحہ عمل بنائیں۔

اسی بارے میں