بینظیرکیس:امریکی صحافی کا بیان تفتیش کاحصہ

Image caption عدالت نے مقدمے کی سماعت سترہ ستمبر تک ملتوی کر دی

سابق وزیرِاعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمہ کی تحقیقات کرنے والی ایف آئی اے کی ٹیم نے امریکی صحافی مارک سیگل کے بیان کو اس مقدمہ کی تفتیش کا حصہ بنا کر متعقلہ عدالت میں پیش کردیا ہے۔

مارک سیگل نے اپنے اس بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اُن کی موجودگی میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کا بینظیر بھٹو کو فون آیا تھا جس میں انہوں نے پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن سے کہا کہ وہ سنہ دو ہزار آٹھ میں ہونے والے انتخابات سے پہلے پاکستان واپس نہ آئیں ورنہ ان کی زندگی کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اپنے بیان میں غیر ملکی صحافی کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف نے بینظر بھٹو سے کہا تھا کہ اگر وہ عام انتخابات کے بعد پاکستان واپس آئیں تو اُن کی جان کے تحفظ کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔

بینظیر بھٹو قتل کے مقدمہ کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے سربراہ خالد قریشی نے سنیچر کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہونے والی سماعت کے دوران انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج کو بتایا کہ ایف آئی اے کا ایک اہلکار متعلقہ امریکی صحافی کا بیان ریکارڈ کرنے امریکہ گیا تھا۔

تفتیشی ٹیم کے سربراہ کے مطابق یہ بیان پاکستان کے ضابطہ فوجداری قانون کی دفعہ ایک سو اکسٹھ کے تحت ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ عدالت جب چاہے انہیں بطور گواہ پیش ہونے کا حکم دے سکتی ہے۔

اس مقدمہ میں سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار کے مطابق مارک سیگل بینظیر بھٹو کے مقدمہ میں بطور گواہ عدالت میں پیش ہونے کو تیار ہیں۔

چوہدری ذوالفقار کے مطابق اپنے اس بیان میں غیر ملکی صحافی کا کہنا تھا کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے ٹیلی فون کے بعد بینظیر بھٹو پریشان ہوگئی تھیں۔

مارک سیگل کے بقول جب انہوں نے بینظیر بھٹو سے پوچھا کہ کس کا فون تھا تو انہوں (بینظیر بھٹو) نے بتایا کہ پرویز مشرف کا فون تھا اور وہ دھمکی آمیز لہجے میں انہیں پاکستان واپس نہ آنے کے بارے میں کہہ رہے تھے۔

یاد رہے کہ اٹھارہ اکتوبر سنہ دوہزار سات کو کراچی میں بینظیر بھٹو کے خیرمقدمی جلوس پر ہونے والے دو خودکش حملوں کے بعد بینظیر بھٹو نے مارک سیگل کو ایک ای میل لکھی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اگر انہیں کچھ ہوا تو اس کی تمام تر ذمہ داری پرویز مشرف، اس وقت کےانٹیلیجنس بیورو کے سربراہ اعجاز شاہ اور دیگر افراد پر ہو گی۔

مقامی میڈیا پر آنے والی خبروں کے مطابق اُس ای میل میں موجودہ حکومت میں سینیئر وفاقی وزیر چوہدری پرویز الٰہی کا نام بھی شامل تھا تاہم پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ قاف کے اتحاد کے بعد انہیں اس سے بری الذمہ قرار دے دیا گیا ہے۔

اس مقدمہ کے ملزمان سابق ڈی آئی جی سعود عزیز اور سابق ایس ایس پی خرم شہزاد نے مقدمہ کی حیثیت کو چیلنج کیا ہے جس کی وجہ سے اس مقدمہ کے ملزمان پر فرد جُرم عائد نہیں کی جاسکی۔

عدالت نے مقدمے کی سماعت سترہ ستمبر تک ملتوی کر دی۔

انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے اس مقدمے کے ایک اور ملزم شیر زمان کی ضمانت کی درخواست پر فریقین کے دلائل سُننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔

اسی بارے میں