پشاور: صحافیوں پر حملوں کی مذمت

فائل فوٹو،
Image caption پاکستان میں ہر سال صحافیوں پر تشدد کے کئی واقعات پیش آتے ہیں اور ان کے خلاف متعدد بار احتجاج بھی کیا جا چکا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں صحافیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی ساتھیوں پر ہونے والے حملوں میں ملوث ملزمان کو فوری طورپر گرفتار کیا جائے اور صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

یہ مطالبہ سنیچر کو پشاور پریس کلب کے صدر سیف الاسلام کی سربراہی میں ہونے والے جنرل باڈی اجلاس میں کیا گیا جس میں مقامی صحافیوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

’صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے‘

پشاور میں صحافیوں کی ہلاکت

صحافتی تنظیموں کا محدود کردار یا بے اعتمادی

پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق اجلاس میں ایک متفقہ قرار داد منظور کی گئی جس میں نجی پشتو ٹی وی چینل اے وی ٹی خیبر، روزنامہ مشرق اور سماء ٹی وی کی ٹیم پر دن دہاڑے پولیس اور مسلح افراد کی طرف سے تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ حملو میں ملوث افراد کو فوری طور پر گرفتار کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔

خیال رہے کہ تقریباً تین ہفتے قبل پشاور میں مسلح افراد نے اے وی ٹی خیبر کی ٹیم پر دن دہاڑے حملہ کیا تھاجس میں چینل کے بیورو چیف حضرت خان مہمند شدید زخمی ہوئے تھے۔

اس سے قبل روزنامہ مشرق کے دفتر اور سماء ٹی وی کی ٹیم پر پولیس کی طرف سے حملہ کیا گیا تھا جس میں متعدد صحافی زخمی ہوئے تھے۔

اجلاس میں ایک پانچ رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جو صحافیوں پر حملوں کے سلسلے میں حکومت اور پولیس سے ہر سطح پر رابطے کریگی۔

جمعہ کو پشاور کے صحافیوں نے ان حملوں کے خلاف خیبر پختون خوا اسمبلی کے اجلاس سے احتجاجاً واک آؤٹ بھی کیا تھا۔

اسی بارے میں