’کہیں بیٹا بھی شدت پسند نہ بن جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption محمد یعقوب افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی ایک کارروائی میں ہلاک ہو گئے ہیں، سلمیہ بی بی

’میری زندگی کا واحد سہارا میرا دس سالہ بیٹا ہے اور مجھے پریشانی ہے کہ کہیں اس کا رجحان بھی شدت پسندی کی جانب نہ ہو جائے۔‘

یہ الفاظ دو بیٹیوں اور ایک کم سن بیٹے کی ماں سلمہ بی بی کے ہیں جو کراچی کے علاقے گلشن اقبال کی ایک کچی بستی کی رہائشی ہیں۔

سلمہ بی بی کی پریشانی کی ایک بڑی وجہ ان کے شوہر محمد یعقوب ہیں جو نائن الیون کے واقعے کے فوری بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جنگ کے لیے ایک دن اچانک افغانستان چلے گئے اور پھر وہاں سے واپس نہیں آ سکے۔

’نائن الیون کے بعد ان کے شوہر بغیر کچھ بتائے گھر سے چلے گئے، اور کچھ عرصے کے بعد کسی نامعلوم شخص کے ہاتھ ایک خط بھیجا جس میں بتایا کہ وہ افغانستان میں ہیں اور ابھی یہاں لڑائی ہو رہی ہے اور تھوڑے دنوں تک واپس گھر آ جائیں گے۔‘

سلمہ بی بی کے بقول ’پہلے خط کے چند دن کے بعد میرے والد کو کسی نامعلوم شخص نے بتایا کہ محمد یعقوب افغانستان کے علاقے قلعہ جنگی میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی ایک کارروائی میں ہلاک ہو گئے ہیں اور ان کی لاش بھی واپس نہیں آ سکی ہے۔‘

سلمہ بی بی کے مطابق ان کے شوہر نے انھیں کبھی اپنے شدت پسندانہ خیالات کے بارے میں نہیں بتایا تھا اور نہ ہی کبھی بتایا کہ ان کی دوستی اور جان پہچان کن لوگوں سے ہے۔

شوہر کے اچانک افغانستان جانے اور ان کے شدت پسندانہ کردار کے بارے میں معلوم ہونے کے بعد سلمہ بی بی پاکستان میں اکثر ماؤں کی طرح شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے روجحانات سے پریشان ہیں اور اپنے بیٹوں کو بچانے کی فکر میں دکھائی دیتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ انھیں سب سے زیادہ پریشانی اپنے دس سالہ بیٹے سلمان کے بارے میں ہے کہ کہیں اس کا روجحان بھی والد کی طرح شدت پسندی کی جانب ہو نہ جائے۔

’ اس وقت اپنے عمر رسیدہ والد کے پاس رہائش پذیر ہیں۔ اب بیٹا جو مقامی سکول میں زیر تعلیم ہے، میری زندگی کا واحد سہارا ہے اور مجھے پریشانی بھی ہے کہ کہیں اس کا روجحان بھی اپنے باپ کی طرح شدت پسندی کی جانب نہ ہو جائے اور ہر ممکن کوشش ہے کہ ایسا نہ ہو۔‘

گلشنِ اقبال کی ایک پسماندہ بستی میں واقع ایک مختصر سے مکان کے تنگ صحن میں اپنے بچوں کے ساتھ چار پائی پر بیٹھی سلمہ بی بی کو جہاں اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں تشویش تھی تو وہیں شوہر کی ہلاکت کے بعد دن بہ دن بڑھتی ہوئی مالی مشکلات نے بھی پریشانی میں مبتلا کر رکھا تھا۔

’شوہر کے موت کے بعد سے والد ہی اخراجات برداشت کر رہے ہیں ،ان کا خود کا بھی اب کوئی ذریعہ روز گار نہیں اور بیمار بھی رہتے ہیں، بھائیوں کے مالی حالات اچھے نہیں ہیں، ابھی تک تو والد تنگدستی کے باوجود مدد کر رہے ہیں لیکن وہ کب تک کریں گے، یہ سوچ کر پریشانی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔‘

سلمہ بی بی جیسے افراد کو حکومتی توجہ کی ضورت ہے کہ تاکہ انھیں اپنی اولاد کو شدت پسندی کے روجحان سے دور رکھنے اور معاشرے کا ایک کارآمد فرد بنانے میں مدد مل سکے۔

اسی بارے میں