ایک بیوہ کا پیغام

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

صحافتی زندگی میں ایسی متعدد خبریں کی یا یا پڑھی ہوں گی جن میں کسی عام شہری کے قتل کے ایک دو روز کے بعد اس کے گھر کےحالات بیان کیے ہوں لیکن نائن الیون کی دسویں برسی نے ایک ایسے مقتول کے گھر پہنچا دیا جو ساڑھے تین برس پہلے اس دنیا کو چھوڑ گیا تھا۔

یہ گھر ہے پولیس کے سب سے چھوٹے رینک یعنی کانسٹیبل کے عہدے پر فائز محمد یعقوب کا،جو لاہور میں وکلاء تحریک کےدوران حفاظتی ڈیوٹی دیتے ہوئے ایک خود کش حملے میں مارے گئے۔

ان کی بیوہ نے کہا کہ ’جو بچے یتیم ہوجاتے ہیں ان کی زندگی بہت بری ہوجاتی ہے۔‘ سوال پوچھا گیا کہ اور بیوہ کی زندگی ؟

تو جواب ملا کہ’ اس کی کیا زندگی ہے ؟وہ تو ہرروز مرتی اور جیتی ہے،اس کا حال تو سب سے برا ہے۔‘

پاکستان میں شدت پسندی کے خلاف جنگ میں پانچ ہزار سیکیورٹی فورسز کے اہلکارہلاک ہوئے ہیں۔ان میں ڈیڑھ ہزار کے قریب وہ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جو شہریوں کی حفاظت کے لیے ڈیوٹی دیتے ہوئے بم دھماکوں اور دیگر حملوں میں ہلاک ہوئے۔

پاکستان کے محکمہ پولیس میں ڈیوٹی کے دوران ہلاک ہونے والوں کو محکمے میں شہید کہا جاتا ہے اور پنجاب پولیس کے ترجمان اسٹنٹ انسپکٹر جنرل پولیس سرمد سعیدنے کہاکہ’ مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق شہید زندہ ہوتا ہے اس لیے ہر پر تشدد واقعہ میں ہلاک ہونے والے ہراہلکار کے اہلخِانہ کو اس وقت تک تنخواہ اور مراعات فراہم کی جاتی ہیں جب تک اس کی عمر کاغذوں میں ساٹھ برس نہیں ہوجاتی۔‘

چند برس پہلے تک معاوضہ تین چار لاکھ روپے تھا لیکن اب یہ معاوضہ بڑھا کر تیس لاکھ روپے کردیا گیا ہے۔

پنجاب کے اے آئی جی سرمد سعید کا کہنا ہے کہ ڈیوٹی کے دوران ہلا ک ہونے والوں کو معاوضے کی ادائیگی میں پولیس کے محکمہ خزانہ پر کوئی خاص بوجھ نہیں پڑتا کیونکہ بیس لاکھ روپے حکومت فراہم کرتی ہے اور باقی اس ویلفیئر فنڈ سے اداکیے جاتے ہیں جس کے لیے ہر ماہ ہراہلکار کی تنخواہ سے کٹوتی ہوتی ہے۔

پنجاب میں تو شدت پسندی کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد سے لیکر اب تک صرف ایک سو اڑتیس پولیس اہلکار ہلاک ہوئے لیکن صوبے پختونخواہ میں یہ تعداد کئی گنا زیادہ ہے۔پشاور سے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی نے بتایا کہ سات سو بانوے پولیس اہلکار ہلاک ہوئے اور پولیس اہلکاروں پر حملوں میں شدت سوات آپریشن شروع ہونے سے کچھ پہلے ہی آگئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

دوسرے نمبر پرسندھ ہے جہاں صرف کراچی میں چھ سو چوالیس پولیس اہلکاروں کو قتل کیا گیا۔نامہ نگار ریاض سہیل کا کہنا ہے کہ تقریبا یہ تمام قتل ان پرتشدد واقعات سے جوڑے جاسکتے ہیں جن کی جڑ میں نائن الیون یا شدت پسندی کے خلاف نام نہاد جنگ ہے۔

ان دونوں صوبوں میں پنجاب کی طرح ہلاک ہونے والوں کے ورثا کو تیس لاکھ روپے اور ماہوار تنخواہ سمیت دیگر مراعات دی جارہی ہیں لیکن سب سے برا حال وفاقی دارالحکومت کے ہلاک پولیس اہلکاروں کے ورثا کا ہے۔نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ ہلاک شدگان کی تعداد تو چوبیس ہے لیکن ان کے ورثا کو صرف پانچ لاکھ روپے تک فی کس معاوضہ ملا۔

شہزاد ملک کو اسلام آبادپولیس کے سربراہ بنیامین رضوی نے بار بار اصرار کے باوجود ملاقات کا وقت نہیں دیا اور جب انہوں نے اپنے طور پر معلومات حاصل کیں تو علم ہوا کہ اسلام آباد کے تمام رولز پنجاب پولیس والے ہیں لیکن امداد کا معاملہ الگ ہے اور وزیر اعظم کے اس اعلان کے باوجود کہ ان کی مراعات بھی پنجاب پولیس کے برابر ہوں گی اسلام آباد پولیس کے ہلاک شدگان کو صرف پانچ لاکھ روپے دیئے جاتے ہیں۔

’شہزاد ملک کو ایک پولیس اہلکار نے کہا کہ ’اسلام آباد اور پنجاب کے پولیس اہلکاروں کے خون کی قیمت الگ الگ ہے۔‘

پنجاب پولیس اب تک ہلاک شدگان میں ساٹھ کروڑ روپے تقسیم کرچکی ہے لیکن بہت سے اہلکار ایسے بھی ہیں جن کے ورثاکو وعدہ کیا گیا معاوضہ پورا ادا نہیں کیا گیا۔

ان ہی میں سے ایک کانسٹیبل محمد یعقوب ہیں جن کے ورثا کو تیس لاکھ میں سے صرف بارہ لاکھ روپے ہی ادا کیے جاسکے اور وزیر اعلی پنجاب کی جانب سے پلاٹ دیئے جانے کا وعدہ بھی وفا نہ ہوسکا۔

لاہور کے کانسٹیبل محمد یعقوب کی ہلاکت کے ساڑھے تین برس بعد ان کی بیوہ کہتی ہیں کہ یہ معاوضہ ان کے شوہر کا رتی برابر بھی متبادل نہیں ہو سکتا۔

شاہدہ پروین نے کہا کہ میرا پیغام تمام پاکستانیوں کو دیدو کہ وہ ایک دوسرے کو نہ ماریں کیونکہ جانے والا تو چلا جاتا ہے لیکن پیچھے رہ جانے والے (پسماندگان) کی زندگیاں تباہ ہوجاتی ہیں۔

’میرے لیے تو یہ دنیا ہی نرگ(دوزخ) بن گئی ہے۔‘