’چاہتا ہوں کہ آج ناک کٹی ہے کل کو گردن کٹ جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

’عام زندگی کے ساتھ چلنے کی کافی کوشش کی لیکن حکومتی دباؤ نے پریشانیوں اور مسائل میں ایسا اضافہ کیا کہ اب یہ بھی نہیں سوچتا کہ مجھے کوئی پچھتاوا ہوا ہے۔ بلکہ خوشی ہے اور چاہتا ہوں کہ آج ناک کٹی ہے کل کو گردن کٹ جائے کیونکہ پاکستان واپسی پر درپیش مسائل کی وجہ سے لگتا ہے کہ شاید ہم جیسے لوگ اسی کام کے لیے بنے ہیں اور کر بھی کیا سکتے ہیں۔‘

کہتے ہیں کہ اگر صبح کا بھولا شام کو گھر لوٹ آئے تو اسے بھولا نہیں کہتے۔ لیکن اٹھائیس سالہ محمد فاروق کی باتیں سن کر بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ الٹ ہوا۔

کراچی کے علاقے گلشن کی ایک کچی آبادی میں ایک کمرے پر مشتمل مکان کے انتہائی مختصر صحن میں بیٹھے محمد فاروق کا مسخ شدہ چہرہ جہاں ان کے تلخ ماضی کی عکاسی کر رہا تھا تو وہیں ان کی آنکھوں میں مایوسی بھی نمایاں تھی۔

محمد فاروق امریکہ میں نائن الیون حملوں سے پہلے ہی پاکستان میں شدت پسندانہ سوچ رکھنے والے عناصر کی جکڑ میں آ چکے تھے۔

انھوں نے کہا ’گلشن اقبال کے ایک مدرسے میں زیر تعلیم تھے تو جہاد کا شوق ہوا۔ اسی دوران طالبان کے ایک ساتھی سے ملاقات ہوئی۔ ان کے توسط سے پہلی بار سنہ انیس سو ننانوے میں سترہ سال کی عمر میں کابل گیا اور وہاں تقریباً سات ماہ تک قیام کے دوران عسکری تربیت حاصل کی اور اس کے بعد واپس پاکستان آ گیا۔‘

محمد فاروق کے مطابق نائن الیون حملوں کے فوری بعد افغانستان چلے گئے تھے تاکہ امریکی حملے کے خلاف مزاحمت کی جا سکے۔ تاہم جلد ہی نومبر دو ہزار ایک میں طالبان مخالف فورسز شمالی اتحاد کے نرغے میں آنے کے بعد اپنے دیگر ساتھیوں اور طالبان سمیت ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو گئے۔ بعد میں قلعہ جنگی جیل منتقل کر دیے گئے جہاں جیل میں طالبان کی بغاوت کے بعد امریکہ اور شمالی اتحاد کی کارروائی میں شدید زخمی ہو گئے۔

’جیل میں مسلسل سات سے آٹھ روز تک جاری رہنے والی کارروائی کے دوران میرے چہرے اور سر پر بم کے ٹکڑے لگنے سے گہرے زخم آئے۔ بعد میں کچھ عرصہ زخمی حالت میں کسی نامعلوم زیر زمین جگہ پر قید رکھا گیا اور اس دوران طبی امداد بھی فراہم کی جاتی رہی۔ بعد میں پاکستانی فوج نے ایک طیارے کے ذریعے ان سمیت ڈیڑھ سو کے قریب افراد جو تمام بیمار یا زخمی تھے کو پشاور منتقل کیا۔ پشاور جیل میں چار ماہ جیل میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا گیا۔‘

محمد فاروق کے مطابق کراچی واپس پہنچنے پر ایک تو زخموں کی وجہ سے شدید پریشانی کا سامنا تھا کیونکہ جیل میں نہ ہونے کے برابر طبی علاج ہوا تھا اور دوسرا گزر بسر کرنے کے لیے جیب میں کچھ نہیں تھا۔

انھوں نے کہا’افغانستان جانے سے پہلے جس فیکڑی میں کام کرتا تھا اس کے مالک سے جان پہچان تھی۔ اسے مجبوری بتائی تو اس نے علاج کرانا شروع کر دیا۔ تاہم سکیورٹی اداروں نے ان کو یہ کہہ کر علاج بند کروا دیا کہ یہ دہشت گرد ہے اور کل کو اگر کسی جگہ دہشت گردی کی کوئی کارروائی کر دے تو کون ذمہ دار ہو گا۔‘

محمد فاروق کے مطابق علاج بند ہونے کے کچھ عرصے کے بعد بین الاقوامی امدادی ادارے عالمی ریڈ کراس نے رابط کیا کیونکہ انھوں نے افغانستان میں دوران قید میری تمام معلومات حاصل کیں تھیں اور میرا اعلاج شروع کروایا۔

’پانچ سال میں راولپنڈی کے فوجی ہسپتال میں میرے چہرے کی اٹھارہ بار سرجری ہو چکی ہیں لیکن اب انھوں نے بھی جواب دے دیا ہے کہ آپ کا مزید کچھ نہیں ہو سکتا۔‘

محمد فاروق کے مطابق ’ریڈ کراس والے بھی پیچھے ہٹ گئے کہ اس کا اب کچھ نہیں ہو سکتا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ میرے پاس مہنگے علاج کے لیے رقم نہیں ہے اور چہرہ خاص طور پر ناک کاعلاج نہ ہونے کی وجہ سے انفیکشن ہو چکا ہے اور سانس لینے میں مشکل کا سامنا ہے۔‘

’چہرے کی وجہ سے کوئی روز گار نہیں ملتا تھا، اگر ملتا تھا تو پولیس اہلکار تفتیش کے لیے پیچھے پہنچ جاتے تھے اور مالکان کو ماضی کا پتہ چلتا ہے تو ملازمت دینے سے انکار کر دیتے ہیں۔‘

محمد فاروق کے مطابق ملازمت کے حصول میں ناکامی کے بعد کچھ لوگوں کی امداد سے ایک چھوٹی سی دکان شروع کی لیکن اب اسے ایک عزیز کو پچاس ہزار روپے میں فروخت کر دیا ہے تاکہ کم از کم تھوڑا بہت علاج تو شروع کروایا جا سکے۔

انھوں نے بتایا کہ چہرے اور سر کے زخموں کا علاج کافی مہنگا ہے اور موجودہ صورتحال میں زندہ رہنے کے لیے رقم نہیں ہے تو ادویات خریدنے کے لیے رقم کہاں سے آئے گی۔

’کسی بھی دہشت گردی کے واقعے کے بعد پولیس والے گھر پہنچ جاتے ہیں کہ آپ تفتیش کے لیے فلاں جگہ پہنچ جائیں۔ مجھے سمجھ نہیں آتی ہے کہ یہ لوگ میرے سے کیا چاہتے ہیں۔ کیا میں نے ہمیشہ یہ ہی کام کرنا ہے۔ یا تو ہمیں جیل میں بند کر دیں یا تو مار دیں۔‘

محمد فاروق نے اپنے زخمی ناک کو ایک کپڑے کی مدد سے صاف کرتے ہوئے مایوسی کے عالم میں کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ ان کا علاج ہو جائے، چہرہ ٹھیک ہو جائے اور وہ معاشرے میں ایک عام انسان کی طرح زندگی گزاریں۔ ’میرا ایک چھوٹا سا کاروبار یا ملازمت ہو اور ایک خاندان ہو، اس کے لیے میں نے کافی کوشش کی لیکن مجھے اب لگتا ہے کہ اب اس طرح کی زندگی گزارنے کی مزید کوشش نہیں کر سکتا ہوں۔‘

محمد فاروق نے ماضی میں کیے پر پچھتاوے کے بارے میں سوال پر کہا ’اصل میں مجھے اب کوئی پچھتاوا محسوس نہیں ہوتا ہے کیونکہ یہاں واپس آ کر میں نے کافی پریشانیوں کا سامنا کیا ہے۔ حکومت کے رویے اور اس کی جانب سے بار بار دباؤ ڈالنے اور یہاں تک کہ میرا علاج بند کروا دیا۔ تو اس صورت میں مجھے ان سے کیا ڈرنا ہے۔ یہاں بھی گھٹ گھٹ کر مر رہا ہوں تو وہاں بھی (لڑائی کرتے ہوئے) مرنا ہی ہے تو مجھے اس پر خوشی ہے کہ میرا ناک کٹا ہے کل کو گردن کٹ جائے۔ شاید ہم لوگ بنے ہی اس کام کے لیے ہیں۔‘

محمد فاروق کی مجبوری اور بے بسی دیکھ کر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ کس کرب سے گزر رہیں ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اگر کوئی اپنے ماضی کو بھلا کر ایک بہتر مستقبل کی جانب بڑھنا چاہتا ہو تو اس کی ہمت بندھانی چاہیے نہ کہ مشکلات میں اضافے سے اس کو اسی مقام پر دوبارہ لا کھڑا کیا جائے جہاں سے اس نے شدت پسندی کی جانب سفر شروع کیا تھا۔

اسی بارے میں