ڈینگی، متاثرین کی تعداد 4000 سے زیادہ

ڈینگی وارڈ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’ڈینگی بخار سے پیر کے روز مزید دو افراد کی موت واقع ہوئی ہے‘

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ڈینگی وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور صوبہ بھر میں مریضوں کی تعداد چار ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔

ڈینگی بخار سے آٹھ افراد کی موت واقع ہوئی ہے اور مرنے والوں میں صوبائی سیکرٹری معدنیات عطاء اللہ صدیقی بھی شامل ہیں۔

سیکرٹری صحت پنجاب جہانزیب خان نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ صوبے بھر میں ڈینگی مچھر سے متاثر ہونے والے مریضوں کی تعداد چار ہزار چوالیس ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان میں تین ہزار پانچ چھہتر کا تعلق صوبائی دارالحکومت لاہور سے ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق نے بتایا کہ صوبائی حکام کے مطابق چوبیس گھنٹوں میں صوبے بھر میں ڈینگی وائرس سے متاثر ہونے والے سات سو سنتالیس نئے کیسز سامنے آئے ہیں اور ان میں چھ سو اڑتالیس مریض لاہور سے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ڈینگی بخار سے پیر کے روز مزید دو افراد کی موت واقع ہوئی ہے جس سے مرنے والوں کی تعداد آٹھ ہوگئی۔

ڈینگی وائرس کی زد میں اب میں غیر ملکی بھی آگئے ہیں اور لاہور آئی ٹی ٹاور کی تعمیر کے منصوبہ پر کام والے تین چینی باشندوں کوڈینگی وائرس کی تشخیص ہونے پر ہسپتال میں داخل کیا گیا۔

صوبائی سیکرٹری صحت جہانزیب خان نے بتایا کہ ڈینگی وائرس کی وباء سے نمٹنے کے لیے بیرون ملک سے بھی خصوصی ٹیمیں آرہی ہیں اور اس سلسلے میں سری لنکن ڈاکٹروں کی ایک ٹیم منگل کو لاہور پہنچے گی۔

سیکرٹری صحت کے بقول پنجاب حکومت کی طرف سے قائم کردہ ہیلپ لائن پر ڈینگی وائرس کے بارے میں معلومات کے لیے ایک دن میں پانچ ہزار سے زائد کالز موصول ہوئی ہیں۔

ڈینگی وائرس سے بچاؤ کے لیے آگہی مہم کے دوران وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے خود شہریوں میں پمفلٹ تقیسم کیے۔

ادھر پنجاب کے وزیر تعلیم میاں مجتبیْ شجاع الرحمن کی ہدایات پر ڈینگی مچھر کے کاٹنے کے خطرے کے پیش نظر صوبے بھر کے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں مارننگ اسمبلی پر دو ماہ کے لیے پابندی لگادی گئی ہے۔

اسی بارے میں