زیر التواء مقدمات، چودہ لاکھ

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل دو سو سات کے تحت اعلی عدالتوں کے ججز پر اپنے عہدے سے ریٹائرمنٹ کے بعد دو سال تک کوئی بھی دوسری سرکاری نوکری کرنے پر پابندی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ ان ججوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد اتنی زیادہ مراعات ملتی ہیں کہ اُنہیں دوسری نوکری کی خواہش نہیں کرنی چاہیے۔

نیا عدالتی سال شروع ہونے کے موقع پر سپریم کورٹ میں ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ ریٹائرڈ ججوں کو اپنے عہدے سے کم تر عہدہ قبول نہیں کرنا چاہیے اگر کسی نے ایسا کیا ہے تو اُسے فوری طور پر مستعفی ہو جانا چاہیے۔

اُنہوں نے کہا کہ جوڈیشل پالیسی بھی ججوں کو اپنے عہدوں سے کمتر عہدہ قبول کرنے سے روکتی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جوڈشیل کمیشن اعلی عدالتوں میں ججز کی تقرری میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور اس کمیشن کی تشکیل کے بعد اب تک تیئس اجلاس ہوچکے ہیں جس میں ایک سو ججز کی تقرری کی سفارش کی گئی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ جـوڈیشل پالیسی کے نفاذ سے پہلے یکم جون سنہ دو ہزار نو کو سپریم کورٹ ، فیڈرل شریعت کورٹ سمیت ملک بھر کی عدالتوں میں اٹھارہ لاکھ مقدمات زیر التوا تھے جب اب کم ہوکر چودہ لاکھ رہ گئے ہیں۔

جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا کہ اس وقت سپریم کورٹ میں اُنیس ہزار مقدمات زیر التوا ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے متعدد اہم مقدمات میں فیصلے کرکے گُڈ گورننس کی راہ دیکھائی۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر عاصمہ جہانگیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے از خودنوٹس کی سماعت پر تحفظات ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اس از خودنوٹس سے واقعات کا صیح طور پر احاطہ نہیں کیا جاتا اور عوامی مفادات ایک طرف ان معاملات میں پیشہ ور مقدمے باز آگئے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ اعلی عدالتوں میں ججز کی تقرری کے طریقہ کار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹس کی روشنی میں ججوں کی تقرری مسترد کردی جاتی ہے۔ اُنہوں نے عبوری آئینی حکمنامے یعنی پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے ججوں کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کو سراہا تاہم کوئی بھی فیصلہ ذاتی عناد میں نہیں ہونا چاہیے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر کا کہنا تھا کہ ملک میں عدلیہ کی آزادی کی جو فضا بنی تھی وہ آہستہ آہستہ ختم ہوتی جارہی ہے اور اس معاملے میں کچھ لوگوں نے ناجائز فائدے بھی اُٹھائے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ نیشنل جوڈیشل پالیسی میں کچھ خامیاں ہیں جن کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔