سندھ میں پھر بارشیں، صورتحال تشویشناک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کے بعد متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ۔

پاکستان کے صوبہ سندھ کے زیریں علاقے میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث سیلاب زدہ علاقوں میں لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔

محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ بارشوں کا یہ سلسلہ بدھ جاری رہے گا اور اس میں بدھ کی شام سے کمی آنا شروع ہو گی۔

سندھ میں بارشوں سے تباہی: تصاویر

صوبائی حکومت کے مطابق بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد ترپّن لاکھ پچاس ہزار افرد سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے بنائے گئے کیمپوں میں اس وقت تین لاکھ لوگ موجود ہیں، جبکہ لاکھوں لوگ سڑکوں، اور بچاؤ بندوں پر کھلے آسمان کے نیچے موجود ہیں۔

سندھ کے ریلیف کمشنر آفس کے مطابق متاثرین کی اکثریت کو امدادی سامان پہنچانے کی کوششیں کی جارہی ہیں تاہم خراب موسم اس سلسلے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سندھ کے قائم مقام ایڈیشنل ریلیف کمشنر نثار میمن نے بی بی سی اردو کے حسن کاظمی کو بتایا ہے کہ بارہ اگست سے شروع ہونے والے بارشوں کے سلسلے کے دوران مختلف واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو سو ایک تک پہنچ گئی ہے۔

ریلیف کمشنر آفس کے مطابق سب سے زیادہ ہلاکتیں میرپور خاص ضلع میں ہوئیں جہاں تیس افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ بدین میں چھبیس جبکہ نواب شاہ میں سولہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

منگل کی صبح چار بجے سے صوبے کے اکثر علاقوں میں بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہوا ہے اور محکمۂ موسمیات کے مطابق سب سے زیادہ بارش میرپور خاص میں دو سو ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ حیدرآباد میں ایک سو ساٹھ ملی میٹر، دادو میں ایک سو پچھہتر ملی میٹر، کراچی میں ایک سو بیس ملی میٹر، ٹھٹہ میں ستر،، ٹنڈوجام میں نوے جبکہ بدین میں اسّی ملی میٹر بارش ریکارڈ کی جاچکی ہے۔

کراچی، حیدرآباد، ٹھٹہ، ٹنڈوالہ یار، بدین، سانگھڑ، تھرپارکر، عمر کوٹ، میرپورخاص، اور نوابشاہ میں بارشوں کے باعث معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہوگیا ہے۔ حیدرآبار، میرپورخاص اور کراچی سے ٹھٹہ جانے والی قومی شاہراہ کئی مقامات پر زیرِ آب آ چکی ہے۔

صوبائی دارالحکومت کراچی میں پیر کی رات سےاب تک ایک سو بیس ملی میٹر سے سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی ہے جس کے بعد شہر کی مرکزی شاہراہیں ایم اے جناح روڈ اور شارع فیصل سمیت متعدد علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں اور کئی نشیبی علاقوں میں پانی گھروں میں بھی داخل ہوگیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آبادیوں سے انخلاء کا عمل جاری ہے۔

منگل کو شہر کے بیشتر کاروباری مراکز اور تجارتی ادارے یا تو بند رہے یا ان میں حاضری نہ ہونے کے برابر تھی۔ سڑکوں سے ٹریفک تقریباً غائب رہا جبکہ شہر کے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے۔

شہر کی تمام عدالتوں ، بشمول سٹی کورٹ ملیر کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ میں بھی بارش کی وجہ سے عدالتی کارروائی معطل کر دی گئی۔

اسی بارے میں