ٹارگٹ کلنگ: حکومت معاوضے کی پالیسی بنائے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کراچی کی صورتِ حال اندرونی خلفشار ہے: بابر اعوان

پاکستان کے چیف جسٹس نے حکومتِ سندھ کو ہدایت کی ہے کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ میں مارے گئے افراد کے لواحقین کو مالی معاوضہ ادا کرنے کے لیے پالیسی بنائے۔

یہ ہدایت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے صوبہ سندھ کے شہر کراچی کی صورتحال پر از خود نوٹس کی سماعت کے دوران ایڈوکیٹ جنرل سندھ فتح محمد ملک کو دی۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ فتح محمد ملک نے کہا کہ وہ عدالت کی ہدایت حکومت تک پہنچا دیں گے۔

اس سے قبل وفاق کے وکیل بابر اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی میں حکومت ناکام نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ مان لیا جائے کہ یہ حکومت ناکام ہوگئی ہے تو اس کے بہت ہی خطرناک عالمی اثرات ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی پاکستان کا صرف ایک شہر ہے اور صرف ایک شہر کے خراب حالات کی بنا پر حکومت کو ناکام قرار دینا نامناسب ہوگا۔

بابر اعوان نے کہا کہ کراچی کی صورتِ حال اندرونی خلفشار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سکیورٹی اداروں کی زیادہ توجہ مغربی سرحد پر چلنے والی جنگ ہے۔

جس پر ججز نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آیا اس جنگ میں کراچی کی پولیس بھی شامل ہے؟ جس پر بابر اعوان نے کہا کہ سکیورٹی اداروں میں فوج اور انٹیلیجنس کی توجہ اُدھر زیادہ مبذول ہے۔

بابر اعوان نے کہا کہ وہ عدالت کے از خود نوٹس لینے کے حق کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے بائیس اکتوبر کو بینظیر بھٹو کے وکیل کی حیثیت سے اٹھارہ اکتوبر کو کراچی میں ہونے والے دھماکے کا نوٹس لینے کی بھی استدعا کی تھی مگر عدالت نے جو کہا وہ اس کی قدر کرتے ہیں۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے اس کا نوٹس لیا تھا اور چیف جسٹس نے مقدمے کا ریکارڈ اسلام آباد سے منگوا لیا ۔

چیف جسٹس نے اُس مقدمے کی کارروائی پڑھ کر سنائی اور کہا کہ سات جنوری دوہزار آٹھ کو اس وقت کی سپریم کورٹ نے اس معاملے کو التواء میں ڈالا تھا۔ چیف جسٹس نے بابر اعوان سے کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ اس وقت ہم کہاں تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت جیل میں تھے اور کون چیف جسٹس تھا۔ جس پر بابر اعوان نے عدالت سے کہا کو وہ اس معاملے کو دیکھیں گے۔

بابر اعوان نے اس موقع پر عدالت سے کہا کہ انہیں دلائل کے لیے دو دن درکار ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وہ کوشش کریں کہ بدھ کو دلائل مکمل کرلیں۔

عوامی حمایت تحریک کے رسول بخش پلیجو نے اس موقع پر عدالت سے کہا کہ کراچی میں گزشتہ کئی سالوں میں کسی بھی مجرم کو سزا نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک شہر کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک کینسر ہے جو پورے ملک میں پھیل سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سیاسی مفاہمت کے نام پر حکومت کے اتحادیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔

منگل کو سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل مولوی انوالحق نے عدالت سے کہا کہ پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی اگر ہوئی ہے تو آیا وہ کسی فرد نے کی ہے یا ادارے نے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی کسی قسم کا ماورائے آئین قدم اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ آئین میں ہر ادارے کے اختیارات کا تعین کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کی صورتِ حال اگر گزشتہ ہفتوں میں سنگین تھی بھی تو اب اس میں بہت بہتری آچکی ہے۔

ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جب فوج آتی ہے تو کراچی میں امن رہتا ہے مگر جمہوری دور میں کراچی بد امنی کا شکار رہتا ہے۔

اسی بارے میں