متاثرینِ سیلاب کے لیے عالمی امداد

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ میں بارشوں سے ہونے والی تباہی کے بعد چین اور جاپان کی جانب سے متاثرین کے لیے امداد کا اعلان کیا گیا ہے۔

یہ اعلانات پاکستان کی جانب سے سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے عالمی اپیل جاری کرنے کے بعد کیے گئے ہیں۔

چینی حکام کے مطابق ان کا ملک پاکستان کو اس قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے سینتالیس لاکھ ڈالر دے گا۔

چین کے سرکاری خبر رساں ادارے زنہوا کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے منگل کو اخباری بریفنگ میں بتایا ہے کہ چین یہ ہنگامی انسانی امداد دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کی علامت کے طور پر پاکستان کو دے گا۔

ادھر جاپان نے بھی سندھ کے سیلاب زدگان کے لیے ساڑھے چار لاکھ امریکی ڈالر کی ہنگامی امداد کا اعلان کیا ہے۔ اس امداد میں خیمے، پانی صاف کرنے کے آلات اور دوائیں شامل ہیں۔

دوسری طرف اقوام متحدہ نے متاثرین کی امداد کے لیے عالمی اپیل جاری کرنے کی غرض سے صوبہ سندھ میں نقصانات کا تخمینہ لگانے کا کام شروع کردیا ہے۔

اقوام متحدہ کی امدادی سرگرمیوں کے رابطہ دفتر (اوچا) کے اعلامیے کے مطابق حکومت پاکستان کی درخواست پر اقوام متحدہ کے اداروں نے متاثرین سیلاب کی امداد کا کام شروع کردیا ہے اور ساتھ ہی امداد کی ضرورت کا تخمینہ لگانے کے لیے سروے بھی شروع کردیا ہے۔

نامہ نگار احمد رضا کا کہنا ہے کہ اعلامیے میں خبردار کیا گیا ہے کہ مون سون کی بارشوں اور اس سے پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال سے صوبہ سندھ کے 23 میں سے 22 اضلاع متاثر ہوئے ہیں اور وہاں حکومت کی وسیع امدادی کوششوں کے باوجود امدادی ضروریات بہت زیادہ ہیں۔

اقوام متحدہ کی امدادی سرگرمیوں کے رابطہ دفتر (اوچا) کے اعلامیے کے مطابق صوبے میں سوا دو لاکھ لوگ امدادی کیمپوں اور عارضی بستیوں میں مقیم ہیں، اس کے باوجود لوگوں کی بہت بڑی تعداد کو سر چھپانے کے لیے سائبان کی اشد ضرورت ہے۔

اوچا کے مطابق ممکنہ طور پر جن چیزوں کی سب سے زیادہ کی ضرورت ہے ان میں خیمے، خوراک، پینے کا پانی، صحت و صفائی کے لیے ضروری اشیاء شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ متاثرین کی امداد کے تخمینے اور امدادی کارروائیوں کے لیے جو حکمت عملی بنائی جارہی ہے اس میں متاثرین کے لیے غذائیت، تحفظ اور جلد بحالی شامل ہوگی۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے مہاجرین اور پناہ گزینوں کے اداروں یو این آر اے اور آئی او ایم کے علاوہ غیرسرکاری تنظیم ہینڈز مشترکہ طور پر منگل سے متاثرین میں ساڑھے تین ہزار خیموں کی تقسیم کا عمل شروع کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ مزید خیمے بھی متاثرہ علاقوں میں بھیجے جارہے ہیں اور حکومت پاکستان، ہلال احمر پاکستان اور دوسری تنظیمیں اب تک 85 ہزار خیمے فراہم کرچکے ہیں۔

اعلامیے میں خبردار کیا گیا ہے کہ امدادی کیمپوں اور عارضی بستیوں میں مقیم متاثرین کو ہنگامی طور پر خوراک کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں عالمی ادارہ خوراک ضلع بدین میں راشن پہنچا رہا ہے جس کی تقسیم اگلے ہفتے سے شروع ہوسکے گی۔

اوچا کا کہنا ہے کہ سندھ میں بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ افراد کی صورتحال نازک ہے اور خوراک اور پینے کے پانی کی قلت اور روزگار کے مواقع اور مکانات کے نقصانات کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کو فوری مدد کی ضرورت ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تیزی سے بدلتی ہنگامی صورتحال میں اقوام متحدہ متاثرہ آبادی کی مدد کرنے اور حکومتی امدادی کارروائیوں میں تعاون کا عزم کیے ہوئے ہے۔

اسی بارے میں