’خشک زمین ہوتو تدفین ہو‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

صوبہ سندھ کے متاثرہ علاقوں میں زندہ لوگوں کے لیے تو زمین تنگ ہو ہی گئی تھی لیکن ان علاقوں میں مرنے والوں کی تدفین کے لیے بھی خشک جگہ تلاش کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

بدھ کی شام پنگریو کے راستے میں ٹنڈو باگو شہر کے قریب کچھ لوگ سڑک پر میت لیکر جارہے تھے۔

جنازے میں شریک محمد یوسف نامی شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ بارشوں کے دوران یہ ان گاؤں میں چار روز کے اندر دوسری موت ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حالیہ بارشوں سے مرحوم بیمار ہوگئے تھے اور درست علاج نہ ہونے کے باعث انتقال کرگئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گاؤں کے چاروں طرف پانی تھا اس لیے تدفین نے ہو سکی۔ محمد یوسف نے کہا کہ اب وہ جنازے لیے کسی اونچے ٹیلے کی تلاش کر رہے ہیں جہاں تدفین کی جائے گی کیونکہ قبرستان اور آس پاس کے علاقے میں کہیں بھی خشک جگہ نہیں ہے۔

دریں اثناء صوبۂ سندھ میں بارشوں اور سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے ملکی اور غیر ملکی ادارے سرگرم ہیں مگر متاثرین کی مشکلات میں کمی تو نہیں ہو رہی لیکن ان کی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے۔

بدین سے پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر پنگریو شہر کے آس پاس پاکستان فوج کا ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ کبھی چھ تو کبھی چار لوگوں کو یہ کشتیاں لیکر پنگریو پہنچاتی ہیں جہاں سے انہیں ٹرکوں میں سوار کرکے اگلے شہروں کے لیے روانہ کردیا جاتا ہے مگر بدین تک کسی بھی سرکاری عمارت میں اب گنجائش باقی نہیں رہی ہے اس طرح کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے ہوئے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

محمد صدیق کھوسو خود تو نکل آئے ہیں مگر ان کے والد گاؤں میں موجود ہیں وہ فوجی کشتیوں میں واپس جارہے تھے جس میں ہم بھی سوار تھے۔

صدیق کھوسو نے بتایا کہ ان کے والد بیمار ہیں اور ان کی ٹانگ پر زخم ہے، اس لیے انہوں نے ان کو وہاں چھوڑ دیا اور ان کے مطابق حالات تو شہر اور کیمپ کے بھی بہتر نہیں ہیں اس لیے یہ اچھا ہے کہ وہ گاؤں میں رہیں۔

پنگریو میں پاکستان فوج اور شادی لارج میں کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ لوگوں کو کشتیوں کی مدد سے نکالنے میں مصروف ہے مگر یہ آپریشن شہروں کے قریبی علاقوں تک محدود ہے جس کے باعث یہ خدشہ ہے کہ دور دراز علاقوں میں اب بھی لوگ پانی کے گھیرے میں پھنسے ہوئے ہیں۔

پاکستان فوج کے شعبے تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے میجر وحید بخاری نے بی بی سی کو بتایا کہ مزید اقدامات اور وسائل کی ضرورت ہے، پاکستان فوج تو اپنا کام کر رہی ہے باقی اداروں کو بھی فوج کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ لوگوں کی زیادہ سے زیادہ مدد کی جاسکے۔

ٹنڈو باگو شہر سے کچھ دور واقع جماعت اسلامی کے فلاحی ادارے الخدمت کا کیمپ نظر آیا، رضاکاروں نے بتایا کہ متاثرین کی تعداد میں مسلسل اضافے کے باعث ان کے کیمپ میں گنجائش سے کئی گنا زیادہ لوگ موجود ہیں۔

اسی دوران بارش شروع ہوگئی اور خیمے کے بغیر لوگوں نے چارپایوں کے نیچے خود کو چھپانے کی کوشش کی۔

عبدالطیف چانڈیو نامی نوجوان نے بتایا کہ وہ دو روز سے یہاں موجود ہیں اسی آسرے پر ہیں کہ خیمہ ملے گا، ان کے مطابق دھوپ اور کبھی بارش کے باعث ان کے بچے بیمار ہو رہے ہیں مگر وہ کیا کرسکتے ہیں۔

پنگریو کے ایک اور قریبی شہر ملکانی شریف میں بھی کئی لوگ پھنسے ہوئے ہیں جبکہ شہر کے تمام ہی رستے زیر آب آچکے ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ سولہ روز گزر گئے ہیں مگر سرکاری اور غیر سرکاری اداروں نے یہاں کا رخ نہیں کیا ہے۔

اسی بارے میں