خورد و نوش کی قیمتوں میں چوہترفصید اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

وزارتِ خوراک اور دیگر اداروں نے کہا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ تین برس میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں چوہتر فصید اضافہ ہوا ہے لیکن عام شہریوں اور دوکانداروں کے بقول قیمتوں میں اضافہ اس سے کئی گُنا زیادہ ہوا ہے۔

وزارتِ خوراک اور دیگر اداروں کے مطابق گندم، سبزی، گھی اور چینی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور ان قیمتوں کی وجہ سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد بُری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

وزارتِ خوراک کی ایک رپورٹ کے مطابق گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اٹہتر، چینی ایک میں تریسٹھ جبکہ گوشت، دالوں اور دودھ کی قیمتوں میں بالترتیب ایک سو تین، نواسی اور پچاسی فیصد اضافہ ہوا ہے۔

تاہم چاول اور بناسپتی گھی میں دوسری چیزوں کی نسبت کم یعنی چوالیس اور چھیاسٹھ فیصد اضافہ ہوا ہے۔

دوسری طرف پشاور میں عام شہریوں اور دوکانداروں نے وزراتِ خوراک اور دیگر ادراوں کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں گزشتہ تین سال کے دوران دو سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ ایک طرف آبادی میں اضافہ ہورہا ہے اور دوسری طرف گاہک کم ہوتے جارہے ہیں۔

خریداروں کا کہنا ہے کہ روز مرہ کی چیزوں کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے یہ چیزییں خریدنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔

یونیورسٹی روڈ بازار میں کرنل(ر) شمشیر نے ایک دکان سے سبزی خریدتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ اتنی مہنگائی ہو گئی ہے کہ اب زندگی گُزارنا مُشکل ہوگئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے غیر معیاری اشیاء خریدنے پر مجبور ہو گئے ہیں: سجاد

انہوں نے بتایا ’جو چیز دو روپے کی تھی اب وہ سو روپے سے کم نہیں ملتی۔ میں پینشن دار ہوں اور اب پینشن سے تو گُزارا نہیں ہوتا۔‘

ان کا کہنا تھا ’بس اللہ جانے کہ کیا ہو گا۔ قیمتیں چوہتر نہیں بلکہ دو سو فیصد بڑھ گئی ہے!‘

ایک دکاندار عبدالوحید نے بتایا ’گزشتہ تین سال سے کاروبار تباہ و برباد ہوگیا ہے۔ پہلے گاہک اگر دو سو روپے کی چیز خریدتا تھا تو اب وہ سو روپے کی بھی نہیں خرید سکتا ہے۔ لوگوں کی قوت خرید بُہت کم ہوگئی ہے جس کی وجہ سے کاروبار پر بُہت بُرا اثر پڑا ہے۔‘

ایک اور دکاندار محمد عمران نے کہا کہ قیمتوں پر حکومت کی طرف سے کوئی چیکنیگ نہیں ہے۔

ان کے بقول ’حکومت کی طرف سے جاری کردہ نرخ نامے پر اِس لیے عمل نہیں ہوتا کیونکہ حکومت نے جو نرخ نامے رواں سال مارچ میں جاری کیے تھے ان کے بعد کئی مرتبہ پٹرول مہنگا ہوا ہے جس کے باعث دیگر اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گزشتہ تین سال سے کاروبار میں بہت نقصان ہوا ہے: عبدالوحید

ایک اور خریدار سجاد نے بتایا کہ مہنگائی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے وہ مجبور ہو گئے ہیں کہ کم قیمت والی چیز خرید لیں کیوں نہ وہ غیر معیاری چیز ہی ہو۔

انہوں نے کہا ’ آمدن میں کوئی اضافہ نہیں ہورہا ہے اور چیزوں کی قمیتوں میں روزانہ اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس لیے پہلے جب ہم دس کلو چینی خریدتے تھے تو اب اس کی جگہ صرف تین کلو پر گُزارہ کررہے ہیں۔‘

فضل الہیٰ نے بتایا کہ آمدن وہی ہے اور اخراجات زیادہ ہوگئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’پاکستان میں جمہوریت کا مطلب ہے کہ اپنی جیب بھرو، کام نکالو اور دوسروں کو تباہ کرو۔ کم از کم ہم ایسوں کے لیے تو جمہوریت یہی معنیٰ رکھتی ہے۔‘

اسی بارے میں