دس سال میں ساڑھے پانچ لاکھ اسلحہ لائسنس

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اسلحہ لائسنس رکھنے والے قانون کے مطابق اس کا متعلقہ تھانے میں اندراج بھی نہیں کرواتے: آئی جی سندھ

صوبہ سندھ کے انسپکٹر جنرل پولیس نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ کراچی میں گزشتہ دس سالوں میں اسلحے کے ساڑھے پانچ لاکھ لائسنسز جاری کیے گئے ہیں جن میں ممنوعہ بور کا اسلحہ بھی شامل ہے۔

یہ بات انہوں نے بدھ کو کراچی میں سپریم کورٹ کی جانب سے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور بد امنی کے خلاف جاری از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران کہی۔

آئی جی سندھ واجد درانی نے عدالت کو بتایا قیامِ پاکستان سے دوہزار ایک تک اسلحے کے صرف پچاس ہزار لائسنسز جاری کیےگئے تھے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اسلحہ لائسنس رکھنے والے قانون کے مطابق اس کا متعلقہ تھانے میں اندراج بھی نہیں کرواتے۔

وفاق کے وکیل بابر اعوان کی جانب سے دیے جانے والے دلائل کے دوران چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی جی رینجرز کے مطابق کراچی کی صورتِ حال وزیرستان سے بھی خراب ہے تو کیا اسے حکومت کی کامیابی کیسے قرار دیا جاسکتا ہے۔

اس قبل بابر اعوان نے عدالت کو وفاق کی کارکردگی بتاتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے کراچی میں قیام امن کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کی تعیناتی، پولیس کو ڈھائی ارب روپے فراہم کرنے کے ساتھ پچپن بکتر بندگاڑیوں کی فراہمی بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ پانچ گاڑیاں آچکیں ہیں جبکہ آئندہ ایک دو روز میں مزید دس گاڑیاں آ جائیں گی اور باقی بھی جلد ہی پہنچ جائیں گی۔

بابر اعوان کے دلائل کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بھتہ خوری بھی دہشت گردی کی صف میں ہی آتی ہے اور اگر سیاسی جماعتیں مجرموں کو اپنی صف سے نکال دیں تو امن قائم ہوسکتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ بھی ایک وکیل نے عدالت کو دی حکومت نے نہیں۔

انہوں نے بابر اعوان سے سوال کیا کہ صرف رواں سال ہی میں تیرہ سو افراد قتل کیے گئے ہیں تو کیا ہم اسے حکومت کہ کامیابی کہیں گے؟

انہوں نے مزید کہا کہ جرائم پیشہ افراد دندناتے پھر رہے ہیں اور رحمان ملک کہتے ہیں کہ اگر عدالت اجازت دے تو مجرموں کا ریکارڈ پیش کروں۔

بابر اعوان نے کہا کہ عالمی اور علاقائی طاقتیں پاکستان کو ناکام ریاست بنانا چاہتی ہیں مگر حکومت ناکام نہیں ہے۔

ان کے مطابق حکومت نے کراچی اور بلوچستان کی سرحد پر چیک پوسٹ قائم کرکے اسلحے کی ترسیل روکی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سمندر کے راستے پر بھی ناکہ بندی کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دو کروڑ غیر قانونی سم کنکشن بلاک کردیے گئے ہیں اور سندھ کی حکومت کو ایف آئی اے نے مجرموں کا ڈیٹا بھی دیا ہے۔

بابر اعوان نے عدالت کو بتایا کہ نادرا کے ذریعے بھی مجرموں کا ڈیٹا حکومتِ سندھ کو فراہم کیا جارہا ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ بہت عجیب بات ہے کہ نادرا مجرموں کا ڈیٹا بھی رکھتی ہے۔

اس موقع پر آئی جی سندھ نے وضاحت کی کہ مجرموں کا ریکارڈ پولیس نادرا کو فراہم کرتی ہے مگر نادرا سے ریکارڈ لیتی نہیں ہے۔

بابر اعوان نے عدالت سے مزید کہا کہ کراچی میں سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں سولہ ہزار ایکڑ سرکاری اراضی پر قبضہ ہوا تھا۔ جس پر جسٹس سرمد جلال عثمانی نے پوچھا کہ کیا آپ کو قبضہ چھڑانے کے لیے بھی نو سال چاہیئں۔

عدالت نے سماعت جمعرات تک کے لیے ملتوی کردی۔

اسی بارے میں