القاعدہ کا اہم رہنما ڈرون حملے میں ہلاک

Image caption یہ ڈرون حملہ چار روز قبل اتوار کی شام کو ہوا تھا۔

ایک سینیئر امریکی اہلکار کے مطابق القاعدہ کے ایک اہم رہنما پاکستان میں ہلاک کر دیے گئے ہیں۔

کہا جا رہا کہ ابو حفص الشھری نامی القاعدہ لیڈر کو شمالی وزیرستان میں ہلاک کیا گیا۔

تاہم اس خبر کی آزاد ذرائع سے ابھی تک تصدیق نہیں ہو پائی ہے۔ یہ ڈرون حملہ چار روز قبل اتوار کی شام کو ہوا تھا۔

اس سے پہلے چار روز قبل قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام نے کہا تھا کہ امریکی جاسوس طیارے کے حملے میں ایک غیر مُلکی سمیت دو افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔

میر علی میں ایک اعلٰی سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ تحصیل میر علی میں شہر سے تین کلومیٹر دور جنوب کی جانب ایسو خیل میں ایک گاڑی کو امریکی جاسوس طیارے سے داغے گئے میزائل سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار دو افراد ہلاک ہو گئے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ امریکی جاسوس طیارے سے دو میزائل فائر کیے گئے جس سے گاڑی بھی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک غیر مُلکی عرب اور ایک مقامی شخص شامل ہیں جن کا تعلق افغان کمانڈر جلال الدین حقانی گروپ سے بتایا جاتا ہے۔

لیکن اُس وقت یہ معلوم نہیں ہوسکا تھا کہ غیر مُلکی کوئی اہم شخص ہے یا نہیں۔

سرکاری اہلکار نے بتایا تھا کہ ہلاک ہونے والا دوسرا شخص حفیظ اللہ (ر) ڈپٹی کمشنر لائق الرحمان کا بھائی اور مرحوم اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ لُطف الرحمان کا بھتیجا بتایا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حفیظ اللہ میرعلی میں حقانی گروپ کا ایک کمانڈر تھا اور ان کا تعلق زیادہ تر غیر مُلکیوں سے رہتا تھا۔

بعد میں مقامی طالبان دو تین گاڑیوں میں آئے اور انہوں نے سفید کپڑے میں لپیٹ کر لاشوں کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

تین ہفتے قبل امریکی حکام نے القاعدہ کے ‘چیف آف آپریشنز’ بتائے جانے والے شخص عطیہ عبدالرحمان کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا تھا۔

اس علاقے میں پہلی بھی کئی بار ڈرون حملے ہو چکے ہیں جن میں مقامی اور غیر ملکی طالبان شدت پسند ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں