’امدادی سرگرمیاں معطل ہو جاتی ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ تیس مہینوں کے دوران خودکش حملہ آوروں نے ہسپتالوں پر حملے کیے ہیں

بین الاقوامی امدادی تنظیم آئی سی آر سی نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں پرتشدد واقعات میں علاج معالجے کی سرگرمیاں اکثر اوقات معطل یا مکمل طور پر بند اور ناقابل رسائی ہوجاتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ تین ماہ کے دوران متعدد ایسے واقعات رونما ہوچکے ہیں جس میں صحتِ عامہ کے مراکز اور ایمبولینسوں پر حملے یا دھماکے کیے گئے ہیں۔

نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر ایسے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے جس میں ہپستالوں پر دھماکہ خیز مواد یا اسلحہ سے حملہ کیا جاتا ہے یا ایمبولینسوں کو اغواء اور امدادی عملے کو دھمکیاں دی جاتی ہیں جس سے امداد کےلیے کی جانے والی کوششوں میں دانستہ طورپر روکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔

پاکستان بھی اس قسم کی انسانی بحران سے بالاتر نہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ تیس مہینوں کے دوران خودکش حملہ آوروں اورمسلح افراد نے ہسپتالوں پر حملے کیے ہیں، ہپستالوں کے اندر مسلح لڑائی کے واقعات ہوچکے ہیں، ایمبولینسیں تباہ کی جاچکی ہیں اور سلسلہ وار دھماکوں کے ذریعے مدد کو آنے والوں کو ہلاک یا زخمی کیا جاچکا ہے اور ایسے واقعات کے متاثرین کو جان بچانے والے علاج و معالجے میں تاخیر کی وجہ سے مذید خطرات میں مبتلا کیا جاچکا ہے۔

بی بی سی کے نمائندوں کے مطابق تین سال پہلے خیبر پختون خوا کے ضلع ڈیرہ اسمعیل خان میں ضلعی ہپستال کے احاطے میں ہونے والے ایک خودکش حملے میں اٹھائیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

اسی طرح تقریباً ایک ماہ قبل کرم ایجنسی میں ایک امریکی ڈورن حملے میں نجی ہپستال کو نشانہ بنایا گیا تھا جبکہ شمالی وزیرستان میں بھی سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ایک نجی ہسپتیال کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ قبائلی علاقوں میں درجنوں بنیادی صحت کے مراکز کو شدت پسند کے حملوں یا بم دھماکوں میں تباہ کیا جاچکا ہے جبکہ مختلف واقعات میں امدادی عملے کو دھمکیاں دی گئی ہیں یا انہیں اغواء بھی کیا گیا ہے۔

دنیا بھر میں اس ریسرچ کی رہنمائی کرنے والے آئی سی آر سی کے سرجن ڈاکٹر رابن کوُپ لینڈ کہتے ہیں کہ ’سب سے زیادہ چونکا دینے والی حقیقت یہ سامنے آئی کہ زیادہ تر انسان براہِ راست کسی دھماکے یا فائرنگ کا نشانہ بننے سے ہلاک نہیں ہوتے۔ ان کی اموات اس وجہ سے ہوتی ہیں کہ ایمبولینسیں بروقت ان تک نہیں پہنچ پاتیں، کیونکہ امدادی و طبی عملہ کے کام میں رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں، کبھی ہسپتال ہی نشانہ بن چکے ہوتے ہیں یا پھر وہاں ماحول خطرناک ہونے کی وجہ سے صحت کی سہولیات فراہم نہیں کی جا سکتیں۔‘

آئی سی آر سی کی رپورٹ میں مذید کہا گیا ہے کہ اس چیلنج سے طبی حلقے تنہا نہیں نمٹ سکتے۔ یہ ضروری ہے کہ ریاستیں، ان کی مسلح افواج اور تمام بااثر افراد اس مسئلے کا ادراک کریں کہ انتشار کی صورت میں معطلّ ہو جانے والی طبیّ سہولیات کی فراہمی اس وقت انسانیت کو درپیش سنگین ترین چیلنجز میں سے ایک ہے۔

آئی سی آر سی کے ڈائریکٹر جنرل ایوز ڈیکورڈ کہتے ہیں کہ ’اس مسئلے کے موثر حل کے لیے مذاکرات، قانون کی پاسداری، ریاستوں، مسلح افواج اور تمام غیر ریاستی عناصر کی جانب سے ضروری اقدامات کی ضرورت ہو گی۔‘

اسی بارے میں