لوئر دیر: خودکش حملے میں ستائیس ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ابھی تک کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر میں حکام کا کہنا ہے کہ نمازِ جنازہ پر ہونے والے ایک مبینہ خودکش حملے میں ستائیس افراد ہلاک اور 67 زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کو لوئر دیر کے دورافتادہ پاک افغان سرحدی پہاڑی علاقے ثمر باغ میں سدبرکلی کے مقام پر پیش آیا۔

دیر پولیس کے سربراہ محمد سلیم مروت نے بی بی سی کو بتایا کہ بخت سلطان نامی ایک عام شہری کا نمازِ جنازہ پڑھایا جا رہا تھا کہ اس دوران ایک مبینہ خودکش حملہ آور نے جنازہ گاہ میں داخل ہو کر خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

اس دھماکے کے نتیجے میں ستائیس افراد ہلاک اور 67 زخمی ہوئے ہیں۔ سلیم مروت نے کہا کہ آٹھ زحمیوں کی حالت نازک ہے جن کو پشاور میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دھماکےمیں اب تک اٹھارہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ پچپن افراد زخمی ہیں۔ تاہم مقامی ذرائع نے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد زیادہ بتائی ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حملہ آور جنازہ گاہ میں پہلے سے موجود تھا اور جیسے ہی امام نے تیسری تکبیر کے لیے آواز بلند کی تو اس کے بعد ایک زور دار دھماکہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ جنازے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد شریک تھی۔ زخمیوں کو ثمر باغ، مونڈا اور تیمر گرہ کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

ابھی تک کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور نہ ہی معلوم ہو سکا ہے کہ حملہ آور کا ٹارگٹ کون تھا۔

بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ جنازے میں طالبان مخالف لشکر کے افراد شامل تھے تاہم باضابطہ طور پر اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

خیال رہے کہ ضلع دیر لوئر اور دیر اپر کے سرحدی علاقوں میں حالیہ دنوں میں افغانستان کی طرف سے آنے والے شدت پسندوں کی طرف سے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

ان واقعات کے بعد مقامی لوگوں نے سرحدی مقامات پر شدت پسندوں کے خلاف لشکر تشکیل دیے تھے۔ اس کے علاوہ چند دن قبل دیر لوئر سے چترال تک پاک افغان سرحدی پٹی پر دراندازی روکنے کے لیے فوجی دستے بھی تعینات کیے گئے ہیں۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ سرحد پار سے ہونے والے حملوں کی ذمہ داری سوات اور مالاکنڈ کے طالبان قبول کرتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں