لوئر دیر: ہلاکتوں کی تعداد پینتالیس

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مقامی افراد کا کہنا ہے کہ جنازہ میں مقامی لشکر اور عام افراد بڑی تعداد میں شریک تھے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے ضلع لوئر دیر میں جمعرات کو نمازِ جنازہ پر ہونے والے خودکش حملے میں ہلاک ہونے والےافراد کی تعداد بڑھ کر پینتالیس تک پہنچ گئی ہے اور چھہتر افراد زخمی ہیں۔

لوئر دیر پولیس کے ڈی ایس پی شیر حسین نے پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ جمعرات کی رات دھماکے میں زخمی ہونے والے مزید افراد ہپستالوں میں دم توڑ گئے ہیں اور اس طرح ہلاکتوں کی کل تعداد پینتالیس تک پہنچ گئی ہے۔

زخمیوں میں سے بائیس کو پشاور اور اڑتیس کو تمیر گرہ کے ہسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے اور کچھ زخمی ثمر باغ اور منڈا کے ہسپتالوں میں بھی زیرِ علاج ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جمعہ کی صبح ہلاک شدگان میں پندرہ کو مختلف علاقوں میں سپردِخاک کر دیا گیا ہے تاہم ان کے نماِز جنازہ خفیہ طور پر ادا کی گئی۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ نو افرا ایسے ہیں جن کے اعضاء اکھٹے کیے گئے ہیں اور ان کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ انسانی اعضاء دور دور تک بکھر گئے تھے۔

ڈی ایس پی شیر حسین کا کہنا تھا کہ اس واقعے کی تفتیش مختلف خطوط پر کی جا رہی ہے اور اب تک اس سلسلے میں پچیس مشکوک افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب ثمر باغ کے علاقوں میں سرچ آپریشن بھی کیا گیا اور اس دوران پورے علاقے میں کرفیو نافذ تھا۔

ادھر تحریکِ طالبان مالاکنڈ ڈویژن کے ترجمان مولانا سراج دین نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ کچھ عرصہ قبل اس علاقے کے لوگوں نے پولیس کے ساتھ مل کر دو طالبان جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا تھا اور یہ حملہ بھی اسی واقعہ کے ردِعمل میں کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنازہ گاہ میں حکومت کے حامی لشکر کے افراد موجود تھے اور اسی وجہ سے ان کو نشانہ بنایا گیا۔

خیال رہے کہ جمعرات کی دوپہر لوئر دیر کے دور افتادہ پہاڑی اور پاک افغان سرحدی علاقے ثمر باغ میں بخت سلطان نامی ایک شخص کی نماِز جنازہ پڑھائی جا رہی تھی کہ اس دوران ایک خودکش حملہ کیا گیا۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ جنازہ میں مقامی لشکر اور عام افراد بڑی تعداد میں شریک تھے۔

اسی بارے میں