امریکہ خود مزید اقدامات کرے: گیلانی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بہت قربانیاں دی ہیں اور اب امریکہ کو چاہیے کہ وہ پاکستان کو مزید اقدامات کرنے کے بارے میں مشورہ دینے کے بجائے خود مزید اقدامات کرے۔

سرکاری خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق اسلام آباد میں خواتین کے ایک کالج میں تقریب کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ امریکہ کو چاہیے وہ مزید اقدامات کرے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ دس برس میں بہت زیادہ قربانیاں دی ہیں اور اب اس پر مزید قربانیاں دینے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا جانا چاہیے۔

امریکہ کے اپنے حالیہ دورے کو ملتوی کرنے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ وہ سندھ میں حالیہ بارشوں سے تباہی کے بعد بحالی کے اقدامات کی بذت خود نگرانی کرنا چاہتے تھے اس لیے انھوں نے اپنا دورۂ امریکہ ملتوی کرکے سندھ کے متاثرہ علاقوں میں جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

سندھ میں حالیہ بارشوں سے متاثرین کی تعداد پینسٹھ لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ سال کے سیلاب کے دوران بھی حکومت کو بحالی کے کاموں میں ناکامی کا موردِ الزام ٹھہرایا گیا تھا۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی نزاکت کے تناظر میں وزیر اعظم کا دورۂ امریکہ بھی نہایت اہمیت کا حامل تھا۔

گو کہ وزیر اعظم کے دورۂ امریکہ کا بنیادی مقصد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کرنا تھا لیکن امریکہ میں قیام کے دوران انھوں نے امریکی حکام سے مذاکرات بھی کرنے تھے۔ ان مذاکرات میں مستقبل قربب میں امریکہ اور پاکستان کے مابین تعاون کی نوعیت اور سمت کا تعین بھی کرنا تھا۔

اب ان مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی سیکریٹری خارجہ سلمان بشیر اور امریکی کی نمائندگی مارک گراسمین کریں گے جو افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکی سفیر ہیں۔

کابل میں امریکی سفارت خانے کے قریب طالبان کے بیس گھنٹوں تک جاری رہنے والے حملے کی ذمہ داری امریکی حکام حقانی گروپ پر عائد کر رہے ہیں۔

مبصرین کے مطابق اس صورت حال میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات مزید سرد مہری کا شکار ہونے کا اندیشہ ہے۔

اسی بارے میں