پاکستان بین الاقوامی نمائش سےباہر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

دفاعی ساز و سامان بنانے والے دو پاکستان اداروں کو لندن میں جاری دفاعی ساز و سامان کی بین الاقوامی نمائش سے ممنوعہ اسلحے کو فروغ دینے کے الزام میں نکال دیا گیا ہے۔

پاکستان آرڈنینس فیکٹریز اور ڈیفنس ایکسپورٹ پروموشن آرگنائزیشن کے اسٹال ڈیفنس اینڈ سیکیورٹی ایکوئپمنٹ انٹرنیشنل نامی نمائش کے منتظمین نے جمعرات کے روز بند کرا دیے تھے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایئٹڈ پریس کے مطابق پاکستان اسٹال پر کلسٹر بم کے ایک اشتہاری کتابچہ کی نشاندھی ایک برطانوی رکن پارلیمنٹ نے کی جس کے بعد منتظمین نے پاکستانی اسٹال بند کرا دیے۔

گرین پارٹی کی رکن پارلیمنٹ کیرولائن لوکس نے کہا کہ وہ ایک سو پچپن ملی میٹر کلسٹر بم کا اشتہاری کتابچہ دیکھ کر حیران رہ گئیں۔

منتظیمن نے کہا کہ انھوں نے جب اس کتابچہ کی موجودگی کی تصدیق کر لی تو انھوں نے فوراً یہ اسٹال ختم کرا دیے۔

برطانیہ نےکلسٹر بموں پر پابندی کے بین الاقوامی قانون پر دستخط کیے ہوئے ہیں۔ اس قانون کے تحت کلسٹر بم کی تیاری، ذخیرہ کرنے، بیچنے اور ان کو فروغ دینے پر پابندی ہے۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے قونصلر جنرل نفیس ذکریہ نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی مصنوعات کی ایک اسٹنڈرڈ فہرست ہے جو نمائش کے آغاز پر منتظمیں کے حوالے کر دی گئی تھی۔

انھوں نے کہا کہ وہ اس سارے معاملے کے قانونی، تکنیکی اور سیاسی پہلؤں سے جائزہ لے رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کوئی ممنوعہ شے اسٹال پر نمائش کے لیے موجود نہیں تھی تاہم انھوں نے اس بات سے انکار نہیں کیا کہ فہرست میں ایسی کسی چیز کا نام شامل ہو سکتا ہے۔