جماعت الدعوۃ پھر سرگرم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

صبح کے نو بجے تھے۔ سکھر شہر نیند سے بیدار ہورہا تھا اور گھنٹہ گھر کے بازار میں دکانیں کھلنا شروع ہوئی تھیں۔

گھنٹہ گھر کے ساتھ ہی بعض باریش نوجوان بچوں کے ہمراہ کیمپ لگانے کی تیاریاں کررہے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں بینرز تھے جن پر صوبہ سندھ کے سیلاب زدگان کے لیے عطیات کی اپیل درج تھی۔

آس پاس کرسیاں اور میزیں بکھری پڑی تھیں اور انہیں آراستہ کیا جارہا تھا۔ ایک میز پر سرخ لوحوں والے مخصوص جرائد اور دوسرا لٹریچر سجایا جاچکا تھا۔

کیمپ کے اندر ہی رینجرز کے درجن بھر جوان بھی چوکنے کھڑے تھے۔

بینرز پرجلی حروف میں تحریر تھا۔’فلاح انسانیت فاؤنڈیشن‘ جماعت الدعوۃ کا نیا نام۔

کیمپ کے نگراں سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے اپنا تعارف حنظلہ کے نام سے کرایا۔

’بس آج سے ہم نے کیمپ لگانے کا کام شروع کیا ہے۔ اس سے پہلے ہم انفرادی رابطے کررہے تھے تاجروں سے مخیر حضرات سے۔‘

حنظلہ نے بتایا کہ فلاح انسانیت فاؤنڈیشن نے صوبے کے دوسرے علاقوں میں بھی سیلاب زدگان کے لیے عطیات جمع کرنے کے لیے کیمپ قائم کیے ہیں۔ ’حیدرآباد، کراچی، شہدادکوٹ، پنوعاقل اور گھوٹکی میں تو کیمپ لگ چکے ہیں۔ لاڑکانہ اور شکارپور میں ایک دو دن میں لگ جائیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

حنظلہ نے بتایا کہ عطیات جمع کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تنظیم نے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی امداد کا کام شروع کردیا ہے جس میں ملک بھر سے ان کے ہزاروں کارکن حصہ لے رہے ہیں۔

’روزانہ پچپن ہزار افراد کو پکا پکایا کھانا دیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ چھ کشتیاں چل رہی ہیں جو پانی میں گھرے لوگ ہیں انہیں نکال کر محفوظ جگہوں پر پہنچا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ میڈیکل ٹیمیں چل رہی ہیں جو موبائل کیمپ لگا کر لوگوں کا علاج کررہی ہیں اور دو خیمہ بستیاں بھی قائم کی گئی ہیں۔‘

’نوابشاہ، شہدادپور، سانگھڑ، میرپورخاص، جھڈو، بدین، نوکوٹ ہے تھرپارکر ان سارے علاقوں میں یہ آپریشن چل رہا ہے اور ہمارے فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے چئرمین حافظ عبدالرؤف صاحب وہ وہاں خود بیٹھے ہیں اور اس آپریشن کی نگرانی کررہے ہیں۔‘

’اس رفاعی کوشش میں جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید کا کیا کردار ہے؟‘

میرے اس سوال پر حنظلہ کا جواب برجستہ تھا۔ ’حافظ سعید صاحب نے تو حکم دیا ہے۔ یقیناً ان کے حکم پر ہی سب کچھ ہورہا ہے۔ حافظ صاحب نے حکم کیا ہے کہ ہر شہر سے سامان روانہ کیا جائے تو پورے ملک سے کارکنان اور سامان پہنچنا شروع ہوگیا ہے تو یہ انہی کے حکم پر ہورہا ہے اور وہ خود بھی اگلے مہینے آئیں گے اس سارے معاملے کو دیکھنے کے لیے۔‘

حکومت اور انتظامیہ کے تعاون کو سراہتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پچھلے سال بھی حکومت اور انتظامیہ نے بڑا شاندار تعاون کیا تھا اور آج بھی ہم نے دیکھا ہے کہ کیمپ لگانے کے بعد بھی انتظامیہ کے لوگوں نے ہم سے تعاون والی بات کی ہے۔

فلاح انسانیت فاؤنڈیشن پچھلے سال ملکی تاریخ کے بدترین سیلاب کے بعد بھی متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی امداد کو پہنچی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ان کیمپوں پر پراپگنڈہ مواد بھی موجود ہے

لیکن حنظلہ کہتے ہیں کہ اس بار سندھ میں سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی کے باوجود متاثرین کی مدد کا وہ جذبہ نظر نہیں آرہا جو پچھلے سال دیکھنے کو ملا تھا۔ ان کے بقول اس کی صاف وجہ ہے۔

’اس وقت دنیا میڈیا پر ہے اور میڈیا جس طرف فوکس کرتا ہے ساری دنیا اس طرف آتی ہے۔ میڈیا پر یہ چیز اس طرح نہیں آئی جس طرح پچھلے سال سیلاب کو بیان کیا گیا تھا یہی وجہ تھی کہ لوگوں کی طرف سے اتنی مدد نہیں آئی اور دوسری وجہ کراچی اور سندھ کے مخصوص حالات ہیں۔لوگوں کی ساری توجہ اس کی طرف تھی جس کی وجہ سے بہت بڑا فنڈ جو ہمیں کراچی سے ملتا تھا، وہ اس بار نہیں ملا۔‘

ان کے بقول کراچی امداد دینے کے معاملے میں سب سے آگے رہتا ہے اور وہاں سے ان کی تنظیم کو کروڑوں روپے کی مدد ملی تھی۔

’اب بھی صورتحال اتنی بری نہیں ہے۔ تقریباً ایک کروڑ ستر لاکھ روپے کا سامان کراچی فراہم کرچکا ہے جو راشن اور دوسری اشیاء کی صورت میں ہے۔‘

گفتگو کے اختتام پر میرے اصرار پر حنظلہ نے بتایا کہ ان کا اصل نام شیر افگن ہے اور وہ صوبہ پنجاب کے شہر قصور کے رہنے والے ہیں۔

’بس حافظ صاحب کا حکم تھا تو گھر بار چھوڑ یہاں امدادی کام کے لیے آگئے ہیں۔‘

پاکستان میں حالیہ برسوں میں جہادی تنظیموں پر پابندیوں کے بعد وہ نام تبدیل کرتی رہی ہیں اور انہوں نے اپنی زیادہ توجہ فلاحی کاموں پر مرکوز کر رکھی ہے تاکہ اپنے وجود کو برقرار رکھ سکیں اور مذہبی وابستگی پر عطیات دینے والے افراد سے رابطہ بھی قائم رہے۔

اسی بارے میں