آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 17 ستمبر 2011 ,‭ 10:19 GMT 15:19 PST

متاثرین کی تعداد اکہتر لاکھ، امداد کی عدم فراہمی پر احتجاج

پاکستان کے صوبہ سندھ میں حکام کے مطابق سیلاب متاثرین کی تعداد اکہتر لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

دریں اثناء متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی عدم دستیابی پر لوگوں میں اشتعال بڑھ رہا ہے۔

علاقے میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سنیچر کو سیلاب سے متاثرہ تین اضلاع میر پور خاص، بدین اور سانگھڑ میں سیلاب متاثرین نےاحتجاج کیا ہے۔

سانگھڑ میں کندیاری کے قریب بھاٹ کے لوگوں نے سڑک پر ٹائر جلا کر ٹریفک کو بلاک کر دیا۔

کلِک ’بہت ہی غیر متوقع شدت کی تباہی ہے‘

کلِک سندھ: تقریباً چوبیس لاکھ متاثرین بیماریوں میں مبتلا

واضح رہے کہ سانگھڑ جانے کے لیے آج کل صرف یہی راستہ بچا ہے جبکہ دیگر راستے زیرِ آب آ چکے ہیں۔

سانگھڑ کے شہر جھول میں رکنِ صوبائی اسمبلی عبدل ستار راجپوت کی فیکڑی کے باہر فائرنگ میں ایک بارہ سالہ بچہ غلام حسین ہلاک ہو گیا ہے۔

سیلاب متاثرین کا کہنا تھا کہ وہ بیس روز سے کھلے آسمان کے نیچے بیھٹے ہوئے ہیں اور ابھی تک کسی سرکاری اور غیر سرکاری ادارے نے ان کی مدد نہیں کی ہے جبکہ ان کا سارا سامان بارشوں میں بہہ گیا ہے۔

سانگھڑ کے شہر جھول میں رکنِ صوبائی اسمبلی عبدل ستار راجپوت کی فیکٹری کے باہر فائرنگ میں ایک بارہ سالہ بچہ غلام حسین ہلاک ہو گیا ہے۔

ڈی ایس پی ارباب سومرو نے بی بی سی کو بتایا کہ فیکٹری میں ایم پی اے کا دفتر اور رہائش بھی ہے۔ ان کے مطابق لوگوں کو کسی نے بتایا کہ فیکٹری کے اندر امدادی سامان موجود ہے جس پر لوگوں نے فیکٹری پر حملہ کر دیا۔جس پر ایم پی اے کے گارڈ نے فائرنگ کر دی جس میں غلام حسین ہلاک ہو گیا۔

مقامی صحافی ممتاز علی شر نے بی بی سی کو بتایا کہ ایم پی اے ضلعی ریلیف کمیٹی کے ممبر ہیں اور حکومت کی جانب سے سیلاب متاثرین میں امدادی سامان کی تقسیم ان کے حوالے کی گئی ہے۔

امدادی سامان کی عدم فراہمی پر سیلاب متاثرین نے سینچر کو ایم پی اے کی فیکٹری کے باہر دھرنا دیا۔ جس کے دوران کچھ افراد نے فیکٹری میں داخل ہونے کی کوشش کی تو فائرنگ کی گئی۔واقعہ کے بعد لواحقین لاش سمیت فیکٹری کے باہر دھرنا دے کر بیٹھے ہوئے ہیں۔

خواتین، بچوں اور ضیعف العمر افراد کو بیمار ہونے کا خدشہ بہت زیادہ ہے: آکسفیم

اس سے پہلے جمعہ کی شام سانگھڑ میں ضلعی کونسل کی عمارت پر سیلاب متاثرین نے دھاوا بول دیا تھا اور وہاں موجود سامان لوٹ لیا تھا۔

پولیس نے صورتِ حال کو کنٹرول کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا جس میں پولیس اہلکاروں سمیت پندرہ کےقریب افراد زخمی ہو گئے۔

متاثرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے امدادی سامان یہاں موجود تھا مگر تقسیم نہیں کیا جا رہا تھا۔

دوسری جانب میر پور خاص کے شہر نو کوٹ میں سامان کی تقسیم کے دوران لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی اور چھینا جھپٹی کے دوران ایک بزرگ شخص پیروں تلے آ کر ہلاک ہو گیا۔

اس کے علاوہ کوٹ غلام محمد میں بھی متاثرین نے امدادی سامان کی عدم دستیابی پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور پولیس نے لاٹھی چارج کر کے انہیں منتشر کر دیا۔

بدین کے شہر ٹنڈو باگو میں بھی متاثرین نے دھرنا دے کر روڈ بلاک کر دیا۔ متاثرین مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں خیمے اور امداری سامان فراہم کیا جائے۔

واضح رہے کہ بدین ضلح کی نٹڈو باگو تحصیل حالیہ بارشوں اور سیلاب میں سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔

دریں اثناء میر پور خاص سے لے کر سانگھڑ تک روڈ کے دونوں اطراف میں مردہ جانور پڑے دکھائی دیتے ہیں جبکہ آس پاس کی سڑکوں پر لوگوں نے پناہ لے رکھی ہے جس کی باعث بیماریاں پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

سیلاب متاثرین کی تعداد میں اضافہ

صوبہ سندھ میں صوبائی ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی یا این ڈی ایم اے کے مطابق متاثرینِ سیلاب کی تعداد اکہتر لاکھ تک پہنچ گئی ہے اور ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد تین سو بیالیس ہو گئی ہے۔

قومی آفات سے نمٹنے کے صوبائی محکمے این ڈی ایم اے کے مطابق اس وقت سرکاری کیمپوں میں چار لاکھ اکیانوے ہزار متاثرین موجود ہیں۔

ادارے کے مطابق بارشوں اور سیلاب میں ہلاک ہونے والے تین سو بیالیس افراد میں سے ستتر بچے اور پچانوے خواتین بھی شامل ہیں۔

اس سے پہلے برطانوی فلاحی ادارے آکسفیم کا کہنا ہے کہ ایسی اطلاعات ہیں کہ متاثرینِ سیلاب میں بتیس فیصد خواتین ہیں جن میں ایک لاکھ کے قریب حاملہ ہیں اور انہیں امراض لگنے کا بہت زیادہ خدشہ ہے۔

کلِک ’بہت ہی غیر متوقع شدت کی تباہی ہے‘

کلِک سندھ سیلاب: پینسٹھ لاکھ افراد متاثر

آکسفیم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ لوگ پہلے ہی گزشتہ سال کے سیلاب سے پوری طرح بحال نہیں ہو پائے تھے کہ انہیں ایک اور تباہی نے آگھیرا ہے اور جس سے ان کی مزاحمت اور برداشت کرنے کی قدرتی استطاعت کو شدید دھچکا لگا ہے۔

آکسفیم کی کنٹری ڈائریکٹر نیوا خان کا کہنا ہے ’خوراک، پانی، سائبان، اور نکاسی کی عدم سہولیات نے لوگوں کی مدافعتی قوت کو مزید کمزور کردیا ہے جس کے باعث خواتین، بچوں اور ضیعف العمر افراد کو بیمار ہونے کا خدشہ بہت زیادہ ہے۔‘

ادارے کا کہنا ہے کہ صاف پانی اور نکاسی کی سہولیات بنیادی ضروریات ہیں جن کے ذریعے بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکا جاسکتا ہے اور مزید تباہی سے بچا جا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کی سیلاب پر بریفنگ

چار لاکھ پچھہتر ہزار سیلاب متاثرین کا کیمپوں میں اندراج کیا جا چکا ہے

اقوم متحدہ کے دفتر برائے انسانی امدادی امور نے کہا ہے کہ پاکستان میں حالیہ میں سیلاب متاثرین کی تعداد پچپن لاکھ تک پہنچ چکی ہےجبکہ دو سو تیس ہلاکتیں ہوئی ہیں اور گیارہ لاکھ مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

اقوام متحدہ متاثرین کی امداد فراہمی کے لیے انتظامات کو آخری شکل دے رہا ہے جو کہ آئندہ ہفتے سے شروع ہو جائے گئی۔

جمعہ کی دوپہر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانکی مون کے نائب ترجمان نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں میڈیا کو معمول کی پریس بریفنگ دی۔

سیکرٹری جنرل کے نائب ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ اقوام متحدہ کا ادارہ برائے اطفال یا یونیسیف متاثرہ علاقوں میں پینے کا صاف پانی،صحت و صفائی کا سامان، اور بیماریوں سے نمٹنے کے لیے ٹیکے وغیرہ پہنچا رہا ہے۔

نائب ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ عالمی ادارہ برائے خوراک یا ورلڈ فوڈ پروگرام سب سے زیادہ متاثرہ ضلعوں میں پندرہ ہزار سے زائد افراد میں خوراک تقسیم کر رہا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام رواں ماہ ستمبر کے آخر تک پانچ لاکھ متاثرین میں ہنگامی امداد بہم پہنچانا چاہتا ہے جبکہ اکتوبر تک وہ یہ ہنگامی امداد حاصل کرنے والوں کی تعداد بائیس لاکھ تک لے جائے گا۔

صحت کے حوالے سے اقوم متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نائب ترجمان نے بتایا کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سہولیات کے نقصانات اور ضروریات کا جائزہ تیزی سے لے رہی ہے جس میں معلوم ہوا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں ہسپتالوں اور شفاخانوں کا ایک چوتھائی تباہ ہو جانے یا پانی میں گھرِ جانے کی وجہ سے متاثر لوگوں تک رسائي کے قابل نہیں رہا۔

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔